کوئٹہ: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ تقریباً 117 سال قبل رابرٹ بیڈن پاول اور اس کی بہن ایگنس کی جانب سے لگایا گیا اسکاؤٹ تحریک کا ایک ننھا سا پودا، آج دو سو ممالک میں پانچ کروڑ سے زیادہ اراکین کے ساتھ ایک تناور درخت بن چکا ہے.
اسکاؤٹنگ نوجوان ذہنوں کی تشکیل اور عالمی شہریت کو فروغ دینے میں ایک طاقتور قوت بن گئی ہے۔
سکاوٹ تحریک اپنی غیر رسمی تعلیم و تربیت کے ذریعے ایسے خدمتگار پیدا کرتی ہے جو بلاتفریق تمام انسانوں کی بے لوث خدمت کرتے ہیں میں صوبے میں چیف اسکاوٹ کی حیثیت بوائے سکاوٹس اینڈ گرلز گائیڈ کی تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے ہر ممکن تعاون کا یقین دلانا ہوں ان خیالات کا اظہار انہوں نے بوائے اسکاؤٹ ایسوسی ایشن کی حلف برداری تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا. اس موقع پر چیف کمیشنر پاکستان بوائے اسکاؤٹ ایسوسی ایشن امان اللہ خان کنرانی، صوبائی وزیر میر عاصم کرد گیلو، پارلیمان سیکرٹری برکت رند، رکن صوبائی اسمبلی زرک خان مندوخیل اور عطاء محمد کاکڑ سمیت بوائے سکاؤٹس اور گرلز گائیڈز کی بڑی تعداد موجود تھی. شرکاء سے خطاب میں گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ خدمت خلق کا جذبہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں سب سے زیادہ کارآمد ہوتا ہے.
اس ضمن میں بلوچستان میں سکاوٹس ایسوسی ایشن کو ایک نئے انداز میں متحرک کرنے اور تمام اضلاع تک وسعت دینے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ سکاوٹ کے ذریعے ہم بآسانی ذمہ دار اور خدمتگار شہری پیدا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکاؤٹس تحریک دراصل ایک تعلیمی اور سماجی تحریک ہے جو نئی نسل کے کردار کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے. واضح رہے کہ ایک روشن مستقبل کی تمام تر توقعات نوجوانوں سے ہی وابستہ ہے۔
گورنر مندوخیل نے بوائے اسکاوٹس کے تمام عہدیداران اور رضاکاران پر زور دیا کہ وہ اپنی تمام سرگرمیوں کو صوبے کے دیگر علاقوں تک وسعت دیں اور ایسوسی ایشن کی مکمل فعالیت کیلئے اپنے حصے کا بھرپور کردار ادا کریں۔ بوائز سکاؤٹس اور گرلز گائیڈز نہ صرف ایک تحریک ہے بلکہ یہ نئی نسل میں رضاکارانہ جذبے کو ابھارنے اور صحتمند معاشرے کے قیام سے متعلق آگاہی کا نام ہے۔
نوجوانوں کی کردار سازی اس وقت ملک و قوم کی اہم ضرورت ہے. اگر ہم اپنے وطن عزیز کے نوجوانوں کی صحیح تربیت کر کے انہیں ایک مفید، کارآمد اور محب وطن بنانے میں کامیاب ہوئے تو یہ ایک عظیم خدمت ہوگی۔