بولان:رند قبیلے کے سربراہ و سابق وزیرِ تعلیم بلوچستان سردار یار محمد رند نے کہا ہے کہ لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے کی غلطی دوبارہ دہرانا سمجھ سے بالاتر ہے لیویز فورس نے امن و امان کی خاطر بے شمار قربانیاں دی ہیں
جبکہ پولیس ایریاز کے مقابلے میں لیویز ایریاز میں امن و امان کی صورتحال کہیں بہتر ہی بلوچستان لیویز فورس کی موجودہ وقت میں ناکامی کی وجہ میرٹ کے بر خلاف بھرتی کا عمل ہے سفارش کلچر پر بھرتی ہونے والے افراد کسی محاز پر لڑ نہیں سکتے سابقہ دور میں بھی لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرکے امن وامان کی بحالی کو خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ مل سکی صوبے میں امن وامان کی بحالی اور ہر محاز پر دشمنوں کا مقابلہ کرنے کی جرات لیویز فورس میں موجود ہے
انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان کو چاہیے کہ وہ لیویز فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئیے اقدامات کرے نہ کہ لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرے اس اقدام کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے انہوں نے کہا کہ فارم 47کی حکومت بلوچستان اپنی ناکامی چھپانے کے لئے سارا ملبہ لیویز فورس پر ڈال رہی ہے صوبے میں امن وامان کی بحالی کے لئیے لیویز فورس کے جوانوں نے بے شمار قربانیاں دی ہیں
انہوں نے کہا کہ لیویز فورس کو پولیس میں ضم نہ کرنے کے لئے ہر سیاسی محاز پر جدوجہد جاری رہے گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا سردار یار محمد رند نے کہا کہ 1887 میں لیویز فورس کا قیام عمل میں لایا گیا تھا لیکن حکومت کی حالیہ پالیسیوں نے بلوچستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچایا ہے ان کا کہنا تھا کہ لیویز کو پولیس میں ضم کرنا کسی بھی طور پر مناسب فیصلہ نہیں اور وہ اس اقدام کی مذمت کرتے ہیں سردار یار محمد رند نے کہا کہ پولیس کے زیرِ انتظام علاقوں میں جرائم کی شرح زیادہ جبکہ لیویز ایریاز میں امن بہتر ہے انہوں نے کہا کہ امن و امان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے مگر امن کے نام پر لیویز فورس کو ختم کرنا ناقابلِ قبول ہے
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت اپنی ناکامیوں کا ملبہ لیویز فورس پر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے جو ایک افسوسناک طرزِ عمل ہے سردار یار محمد رند کا کہنا تھا کہ اگر حکومت بلوچستان کو دوسرے صوبوں کے طرز پر چلانا چاہتی ہے تو صرف نظام نہیں بلکہ سہولیات بھی وہی دینی ہوں گی ان کا کہنا تھا کہ غلط پالیسیوں اور ناقص فیصلوں کے باعث آج بلوچستان سنگین مسائل سے دوچار ہے اور حکومت کو عوامی مفاد میں فوری طور پر اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔