|

وقتِ اشاعت :   October 20 – 2025

کوئٹہ:وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ میں دہشت گردوں کو ایک پیغام دینا چاہتا ہوں کہ وہ ہمیں سیاست سے روکنا چاہتے ہیں ہم کسی صورت آئین کے اندر رہتے ہوئے اپنی سیاست ترک نہیں کریں گے نہ اس قتل غارت سے خوف زدہ ہوں گے

اور نہ ہی سیاسی عمل سے ایک انچ پیچھے ہٹیں گے ۔ یہ بات انہوں نے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں پیش کی گئی مذمتی قرار داد پر اظہار کیا کرتے ہوئے کہی ،،

وزیراعلی بلوچستان کا کہنا تھا کہ رحمت بلوچستان کے بھائی ولید بلوچ کا قتل کا واقعہ بہت دردناک ہے جب ان کی شادی کی تقریبات گھر میں ہورہی تھیں،،اسمبلی کی کارروائی ملتوی کرنیکامقصد بھی یہ ہے کہ ہم افسردہ ہیں،پورا ایوان اور پورا بلوچستان اس واقعہ پر دکھی ہے،،انہون نے کہا کہ یہ پیغام ان قوتوں کیلئے جو صوبے کو خون میں نہلانا چاہتے ہیں،، کہ ہم دہشت گردی کے خلاف ہیں ، ہم مشترکہ طور اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے جو اقدامات ہوسکے وہ کریں گے،

ہم نے دہشت گردی کو چیلنج کیا ہے ہم دہشت گردی کے خلاف سیسہ پلائی دیواربن کررہیں گے ،،وزیر اعلی بلوچستان نے کہا کہ دہشت گردی کو حقوق اور محرومی کے نام پر جنگ کا جواز نہ بنایا جائے ،، بلوچوں کو دہشتگردی کے ذریعے لاحاصل جنگ میں جھونکا جارہا ہے،، سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ یہ پارلیمنٹ ہے جس سے ہمیں اپنے حقوق ملے ہیں ،آئندہ بھی جو حقوق ملیں گے وہ پارلیمنٹ سے ملیں گے،،

دہشت گردی سے سوائے خون ،بربریت کے کچھ حاصل نہیں ہوگا ،ترقی کے سفر کو روکنے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں نے ہمارے تعلیمی اداروں میں دھماکے کیے استاتذہ اور ڈاکٹروں کو شہید کیا گیا کیا آج سردار بہادر خان وویمن یونیورسٹی بند ہوگئی ہے ؟ انہوں نے کہا کہ رکن اسمبلی خیر جان بلوچ کے بھائی ڈاکٹر تھے خدمت کرنا چاہتے تھے انہیں بھی شہید کیا گیا کیا آج ہسپتال بند ہوگئے ہیں ؟ دہشتگرد کبھی اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہونگے ہم دہشتگردی کی جنگ میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں۔