|

وقتِ اشاعت :   October 29 – 2025

پشاور:عوامی نیشنل پارٹی نے استنبول مذاکرات کے غیر نتیجہ خیز اختتام پر گہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ اے این پی کابل حکام سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ عسکری طرزِ فکر سے نکل کر ذمہ دارانہ طرزِ حکمرانی اپنائیں، اور بین الاقوامی سفارتی اصولوں اور ضوابط کی پاسداری کریںا ورکہا ہے کہ امن عمل میں دونوں طرف کے سیاسی اور کاروباری قوتوں کی شرکت کو یقینی بنایا جائے۔

ایک بیان میں اے این پی کے مرکزی ترجمان انجینئر احسان اللہ خان نے کہا کہ پارٹی کا مؤقف ہے کہ جنگ اور تشدد کسی بھی سیاسی مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہو سکتے۔ پائیدار اور باعزت امن، جو جامع مذاکرات اور باہمی احترام کے ذریعے حاصل ہو، تمام فریقین کا بنیادی مقصد ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اے این پی کابل حکام سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ عسکری طرزِ فکر سے نکل کر ذمہ دارانہ طرزِ حکمرانی اپنائیں، اور بین الاقوامی سفارتی اصولوں اور ضوابط کی پاسداری کریں۔ یہ تبدیلی افغانستان کی داخلی استحکام اور بین الاقوامی ساکھ کے لیے ناگزیر ہے۔پارٹی اس امر پر بھی زور دیتی ہے کہ پاکستان مخالف عسکری گروہوں کی سرپرستی ایک نقصان دہ حکمتِ عملی ہے، جو خطے کے امن اور مشترکہ سلامتی کے مفادات کو کمزور کرتی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ خطے میں دیرپا استحکام کے لیے باہمی تعاون پر مبنی مشترکہ حکمتِ عملی وقت کی اہم ضرورت ہے۔اے این پی خبردار کرتی ہے کہ علاقائی اور بین الاقوامی ذمہ داریوں سے انحراف، افغان عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کرے گا، جو پہلے ہی بے روزگاری، غربت اور جبر کا شکار ہیں۔

پائیدار امن کے قیام کے لیے، اے این پی تمام فریقوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ امن عمل میں دونوں طرف کے سیاسی اور کاروباری قوتوں کی شرکت کو یقینی بنایا جائے۔ سیاسی،سماجی اور معاشی پہلو کو مدنظر رکھنا ہی ایک منصفانہ اور دیرپا حل کی بنیاد بن سکتی ہے۔عوامی نیشنل پارٹی امن، جمہوریت اور علاقائی تعاون کے اصولوں پر اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتی ہے، اور مکالمے و استحکام کے فروغ میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔