کوئٹہ :وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیرِ صدارت سیکرٹریز کمیٹی کا اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کے 38 محکموں کی سہ ماہی کارکردگی رپورٹس پیش کی گئیں۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری شکیل قادر خان نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ محکموں کی کارکردگی کا جائزہ 644 مختلف پیمانوں پر لیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق محکمہ لائیو اسٹاک کارکردگی میں سرفہرست رہا، محکمہ خزانہ دوسرے جبکہ اربن پلاننگ تیسرے نمبر پر رہا۔ محکمہ قانون چوتھے اور محکمہ زراعت پانچویں نمبر پر قرار پایا۔
کم کارکردگی والے محکموں میں لوکل گورنمنٹ پہلے، ویمن ڈویلپمنٹ دوسرے، بین الصوبائی رابطہ تیسرے، لیبر اینڈ مین پاور چوتھے اور سی ایم آئی ٹی پانچویں نمبر پر شامل رہے۔
وزیرِ اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے محکموں کے سربراہان کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کمزور کارکردگی والے محکموں کے سیکرٹریز کو فوری بہتری کی ہدایت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ گڈ گورننس کے ذریعے عوامی مسائل بتدریج کم کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو مسائل کی دلدل سے نکالنے کے لیے تندہی، دیانت داری اور تسلسل کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ محکمے سروس ڈلیوری، فیصلہ سازی اور انتظامی امور میں شفافیت لائیں تاکہ عوام کو جلد ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
وزیرِ اعلیٰ نے اس موقع پر کہا کہ صوبے کے مسائل کوئی باہر سے حل نہیں کرے گا، ہمیں خود ذمہ داری اٹھانی ہوگی۔ انہوں نے ترقیاتی منصوبوں کی رفتار بڑھانے اور پالیسیوں پر مؤثر عملدرآمد کو بلوچستان کی ترقی کی کنجی قرار دیا۔
اجلاس کے اختتام پر بھاگ ناڑی میں دہشت گردوں سے مقابلے میں شہید ایس ایچ او لطف علی کھوسہ کے لیے دعا بھی کی گئی۔