|

وقتِ اشاعت :   November 10 – 2025

کوئٹہ:  پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ کے جاری کردہ پریس ریلیز میں فارم 47کے بھونڈے عمل سے مسلط نام نہاد غیر منتخب پارلیمنٹ سے دائمی آئینی فرد واحد کی ذاتی آمریت کے 27ویں آئینی ترمیم دراصل آئین پاکستان کے دستوری وفاقی ڈھانچے کی تبدیلی ہے جس کا اختیار پارلیمنٹ کو نہیں بلکہ آئین ساز اسمبلی کو حاصل ہے۔

27ویں آئینی ترمیم میں آئین پاکستان کا بنیادی ڈھانچہ (پارلیمنٹ، عدلیہ اور انتظامیہ ) کے نظام کو ختم کرکے نیا آئینی نظام متعارف کرایا جارہا ہے ۔ مقننہ یا پارلیمنٹ اپنی سادہ اکثریت سے وزیر اعظم کو تبدیل کرسکتا ہے اور اپنے فیلڈ مارشل جو کہ ریاست پاکستان کاملازم ہے اس کو ہٹانے یا تبدیل کرنے کے لیے دو تہائی پارلیمانی اکثریت درکار ہوگی ۔

27ویں آئینی ترمیم کے یہ شقات ملک کے اقوام وعوام اور دنیا کے سامنے سنگین مذاق کے سواکچھ نہیں۔

سپریم کورٹ کو بے وقعت بنا کر آئین کے آرٹیکل 184کا خاتمہ کرکے دراصل سپریم کورٹ سے کسی بھی آئینی پٹیشن انسانی حقوق کی خلاف ورزی صوبوں اوروفاق کے درمیان کسی بھی تنازعہ کی تشریح اور عوامی مفاد کے کسی بھی سوموٹو کے اختیار یکسر ختم کرکے 175ای میں وفاقی آئینی عدالت کے حوالے کیا جائیگا ۔ اور اس طرح آئین میں 186کے تحت حاصل ایڈوائزری کے اختیارات لیکر 175Hکے تحت وفاقی آئینی عدالت کودیا جائیگا ۔

27ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کا فیصلہ وفاقی آئینی عدالت پر لاگو نہیں ہوگا البتہ وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ سپریم کورٹ پر لاگو ہوگا اور سپریم کورٹ میں دائر کوئی بھی کیس کسی بھی مرحلے پر وفاقی آئینی عدالت لے سکتا ہے اور اس پر اپنا فیصلہ صادر کرسکتی ہے ۔

اوربنیادی انسانی حقوق کے دفاع کا اختیارسپریم کورٹ سے لیکر اور اسی طرح چیف جسٹس کا عہدہ ختم کیا جارہا ہے۔

نئی 27ترمیم سے سپریم کورٹ کی حیثیت ختم ہوکر رہ گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر پاکستان آئین پاکستان کے تحت ملک کے مسلح افواج کے سربراہ تھے اور نئی ترمیم میں محکمہ دفاع کے وفاقی عہدہ کا اختیار ختم کیا جارہا ہے اور اسی طرح بحری ،ہوائی اور بری افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل کے ماتحت کیئے جارہے ہیں ۔ فارم 47کے نام نہاد مسلط پارلیمنٹ سے 1973کے آئین کا متفقہ ڈھانچہ ختم کرنے اور پارلیمنٹ کو فوجی سٹیبلشمنٹ کے فرد واحد کے تحت ذیلی ادارہ بنایا جارہا ہے ۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان نے فارم 47کے نام نہاد غیر منتخب پارلیمنٹ کے تشکیل کے وقت یہ بھانپ لیا تھا کہ یہ نام نہاد غیر منتخب پارلیمنٹ سے آئین کو تبدیل کرنے کا کام لیا جائیگا اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے اکابرین نے پارلیمنٹ کے غیر آئینی وغیر جمہوری عمل کے خلاف اپنے اتحاد کی بنیادیںرکھ دی تھی ۔ آج ملک میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے اکابرین کے خدشات درست ثابت ہورہے ہیں اور غیر منتخب نام نہاد پارلیمنٹ سے آئین کا بنیادی ڈھانچہ تبدیل کیا جارہا ہے ۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پشتونخواملی عوامی پارٹی کا روز اول سے یہ موقف رہا ہے کہ آئین ، پارلیمنٹ ، جمہوریت اور سیاست میں ایجنسیوں کے کردار کا خاتمہ ہو۔

اور عوام کو صاف شفاف طور پر چنائو کا حق حاصل ہو۔ لیکن سٹیبلشمنٹ کے انکار نے ملک کو ہمہ جہت بحرانوں اور عالمی طور پر تنہائی سے دوچارکیالیکن ملک کی سٹیبلشمنٹ نے پارٹی موقف کو درخوراعتناع نہ سمجھا اور انکار کی پالیسی کے نتیجے میں سیاسی عدم استحکام بڑھنے سے ملک کے بحران شدید سے شدید تر ہوتے جارہے ہیں اورمعاشی بحران اپنے آخری حدود سے گزررہا ہے ۔