|

وقتِ اشاعت :   November 10 – 2025

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی)کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر ناشناس لہڑی اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی)کے مرکزی رہنما و سابق ناظم کلی اسماعیل فاروق لانگو کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی، جس میں بلوچستان کی مجموعی سیاسی صورتحال، کوئٹہ میں گیس پریشر کے بحران، بلدیاتی انتخابات اور دیگر اہم عوامی و علاقائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں دونوں رہنماں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سردیوں کے آغاز سے ہی گیس پریشر میں کمی نے عوامی زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔

شہریوں کو ایندھن، ہیٹنگ اور باورچی خانے کے بنیادی تقاضے پورے کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت فوری طور پر گیس پریشر بحالی کے ہنگامی اقدامات کرے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔

سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے دونوں رہنماں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کا پائیدار حل جمہوری و سیاسی عمل کے تسلسل میں ہی ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام جمہوری قوتوں کو ذاتی و جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر بلوچستان کے عوامی حقوق، وسائل پر اختیار اور شفاف طرزِ حکمرانی کے لیے مشترکہ جدوجہد کرنی چاہیے۔ بلدیاتی اداروں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے رہنماں نے کہا کہ عوامی نمائندگی کے اداروں کو فعال کیے بغیر نچلی سطح پر ترقی ممکن نہیں۔ بلدیاتی نمائندوں کو بااختیار بنانے، فنڈز کی منصفانہ تقسیم، اور شفاف نظامِ حکمرانی کے قیام کے لیے اقدامات ناگزیر ہیں۔

ڈاکٹر ناشناس لہڑی نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی صوبے کے حقوق، وسائل کے تحفظ، اور عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان کے عوام کو یکجہتی، سیاسی استحکام، اور ترقی کے مواقع فراہم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

فاروق لانگو نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام ہر فورم پر عوامی فلاح و استحکام کی سیاست پر یقین رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی ہم آہنگی اور رابطوں کے تسلسل سے صوبے کے مسائل کے حل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

دونوں رہنماں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بی این پی اور جے یو آئی کے درمیان سیاسی رابطے اور مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

آئندہ مشترکہ حکمت عملی طے کرنے کے لیے باقاعدہ مشاورتی اجلاسوں پر بھی غور کیا گیا۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کے عوامی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے تمام فیصلے باہمی افہام و تفہیم سے کیے جائیں گے تاکہ صوبے کے عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف اور نمائندگی میسر آ سکے۔