کوئٹہ: امیرِ جمعیت علمائے اسلام بلوچستان، سینیٹر مولانا عبدالواسع نے جے یو آئی رہنما کفیل نظامی ایڈووکیٹ پر فائرنگ کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ نہایت افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدالت جیسے محفوظ مقام پر اس نوعیت کی کاروائی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔
خیبر پشتونخواء میں کوئی شخص اور کوئی مقام محفوظ نہیں رہا۔مولانا عبدالواسع نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کے حلقے کے کارکنوں کو منظم منصوبہ بندی کے تحت ٹارگٹ کیا جا رہا ہے، جو نہ صرف سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے بلکہ قومی سلامتی کے لیے بھی خطرناک رجحان ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کاروائیاں جمعیت علمائے اسلام کو دبانے کی ناکام کوشش ہیں، مگر کارکنان نہ پہلے جھکے تھے نہ اب جھکیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی بے یقینی اور دہشت گردی کے واقعات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ حکومت اپنی بنیادی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں نبھانے میں ناکام ہیں۔
عدالت کے احاطے میں فائرنگ جیسے واقعات ریاستی عملداری پر سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں۔امیرِ جے یو آئی بلوچستان نے مطالبہ کیا کہ ملزمان کو فی الفور گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے، تاکہ آئندہ کوئی شخص عدالتی احاطے میں اس قسم کی درندگی کی جرات نہ کرے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا سمیت پورے ملک میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور حکومت کو فوری طور پر جامع قومی سلامتی پالیسی ترتیب دینی چاہیے۔
انہوں نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی اور کہا کہ جمعیت علمائے اسلام اپنے رہنماؤں اور کارکنان پر ہونے والے حملوں سے مرعوب نہیں ہوگی بلکہ مزید اتحاد، نظم و ضبط اور مضبوط ارادے کے ساتھ اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔