|

وقتِ اشاعت :   November 11 – 2025

کوئٹہ :  بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں وہ نقصان،

جو ضیاء الحق اور پرویز مشرف بھی نہیں پہنچا سکے، وہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی حکومتوں کے ہاتھوں ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان جماعتوں نے جمہوریت کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا اور قومی اداروں کو کمزور کیا سیاسی کارکن سب کچھ قربان کر سکتا ہے لیکن اپنا نظریہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ نظریاتی سیاست ہی عوام کی اصل نمائندگی کرتی ہے، مگر بدقسمتی سے آج کے سیاسی منظرنامے میں نظریے کی جگہ مفادات نے لے لی ہے پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل کی واضح ہدایت پر بی این پی نے ہمیشہ اصولی سیاست کو ترجیح دی ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں 26ویں آئینی ترمیم کے دوران پارٹی کی جانب سے ووٹ بیچنے پر سینیٹر نسیمہ احسان اور قاسم رنجو کو پارٹی سے نکال دیا گیا تھا بی این پی نے ا س وقت 26ویں ترمیم کو مسترد کیا تھا

اور اب 27ویں آئینی ترمیم کو بھی مسترد کرتی ہے،

کیونکہ یہ ترامیم صوبوں کے حقوق کو محدود کرنے کی کوشش ہیں بی این پی ہمیشہ بلوچستان کے عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی کسی سودے بازی کے بغیر اپنی اصولی جدوجہد جاری رکھے گی۔