کوئٹہ : پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ کے جاری کردہ پریس ریلیز میں فارم47کی حکومت کی سرکاری عوامی خزانے پر ہاتھ صاف کرنے کے نارواعمل پر دُکھ وافسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مسلط حکومت کرپشن ، کمیشن ، پرسنٹیج کی حد تک صوبے کو پہلی پوزیشن پر لاچکی ہے جبکہ ترقیات ، عوامی فلاح وبہبود کے سکیمات ، عوامی مسائل کے حل میں نچلے سطح پر پہنچ چکی ہے۔
صوبے میں پرسنٹیج 52فیصد تک پہنچ ہے، اس کے علاوہ 25فیصد دیگر پرسنٹیج اور ٹیکسز کی مد میں لیئے جارہے ہیں یعنی 77فیصد پرسنٹیج کرپشن وکمیشن کے نام پر لیا جارہا ہے اور 23فیصد سکیم کے لیے رکھے جارہے ہیں تو اس منصوبے کا معیار اور تکمیل کا انداز عوام بخوبی لگاسکتی ہے ۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ نام نہاد اور گھوسٹ سکیمات کے ذریعے سرکاری مال ومتاع پر ہاتھ صاف کیا جارہا ہے ، عوام کے ٹیکسز کے پیسوں کو پاکٹ منی ، بنک بیلنس اور جائیدادوں کو بنانے پر خرچ کیا جارہا ہے اور پی سی ون بنا کر رقم ریلیز کردی جاتی ہے لیکن برسرزمین کسی بھی منصوبے کی تکمیل نظر نہیں آتی ۔
اسی طرح بنی بنائی سڑکوں کو توڑنے ، ریپئرنگ ،بلیک ٹاپ ودیگر ناموں سے فنڈز ریلیز کرکے کرپشن کی نذر کی جارہی ہے ۔ حکومت اپنی کرپشن کے لیے سکیمات اور فنڈز کی بندر بانٹ کررہی ہے
جس پر نہ صرف نیب ، انٹی کرپشن نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے بلکہ شفافیت کے دیگر اداروں کی خاموشی سوالیہ نشان ہے ۔ حالانکہ حالیہ مختلف حکومتی آڈٹس رپورٹس میں صوبائی محکموں کے کرپشن وکمیشن کوجو کہ اربوں روپے میں ہیں کو منظر عام پر لایا گیا اور اسی طرح مختلف سروے رپورٹس میں صوبے میں کرپشن اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے ۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے
کہ آڈٹ رپورٹس اور سروے رپورٹس کو مد نظر رکھتے ہوئے انٹی کرپشن ، نیب اور دیگر شفافیت کے ادارے فوری طور پر نوٹس لیکر کرپٹ ، پرسنٹیج ، کرپشن وکمیشن میں ملوث اور سرکاری عوامی خزانے پرہاتھ صاف کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے کرپشن کی روک تھام کے لیے اقدامات اٹھائیں دیگر صورتحال میں جس تیزی کے ساتھ لوٹ مار ، کرپشن کا سلسلہ جاری ہے یہ صوبے کو دیمک کی طرح چاٹ کر عوام کو مزید مسائل ومشکلات سے دوچارکرنے اور مہنگائی ، بیروزگاری ، بدامنی میں مزید اضافے کا سبب بنے گا جب کہ پہلے سے ہی عوام معاشی طور پرسخت ترین مشکلات سے دوچار ہیں۔