|

وقتِ اشاعت :   November 16 – 2025

کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما سابق سینیٹر ودانشور میر طاہر بزنجو نے کہا ہے کہ ملک کی سیاسی تاریخ کی طرح عدلیہ کی تاریخ بھی نہایت داغدار رہی ہے

لیکن اس فرمانبردار عدلیہ میں جسٹس دراب پٹیل جیسے جج صاحبان نے ہمیشہ انصاف سے کام لیا اگر جسٹس منصور علی شاہ اور اطہرمن اللہ حکومت وقت کی خواہشات کے مطابق چلتے تونوبت ان کے استعفوں تک ہرگز نہ پہنچتی ۔

انہوں نے کہا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آئین کی شکل تبدیل کرنے کے بعد اب کیا ہوگا انہوں نے کہا کہ صاف صاف نظر آرہا ہے کہ یہ فیصلہ اب ہوچکا ہے کہ فوج کی دستوری حکومت قائم ہوگی تاہم اب یہ فیصلہ عسکری قیادت کرے گی کہ وہ آمریت کا سعودی ماڈل اپنائے گی یا میانمار اور مصری،

تاہم یہ سوال ہم آپ کیلئے چھوڑ دیتے ہیں کہ عمران خان کا کیا بنے گا لاکھ کوشش کے باوجود ان کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی اسی لیے تو آئے روز وزرا اور حکمرانوں کی گفتگو عمران خان سے شروع اور ان پر ختم ہو جاتی ہے۔