|

وقتِ اشاعت :   November 16 – 2025

کوئٹہ : بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن شال زون کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ تعلیمی اداروں میں طلباء و طالبات کے خلاف تھانیداری کلچر، طاقت کے استعمال اور طلباء تنظیموں کے خلاف منفی سرکاری پروپیگنڈے کے بعد اب مبینہ طور پر اکیڈمک بلیک میلنگ، پاس اور فیل کرنے کے اختیارات کے ناجائز استعمال اور ہراسگی جیسے سنگین واقعات کی خبریں سامنے آرہی ہیں

جو نہایت تشویشناک ہیں گزشتہ سال بھی بولان میڈیکل کالج میں طلباء و طالبات کو ہاسٹلز سے بیدخل کرکے سڑکوں پر بے یار و مددگار چھوڑا گیا اور ان کے ساتھ دشمن جیسا رویہ اختیار کیا گیا اْس وقت بھی ہم نے مؤقف اختیار کیا تھا

کہ طلباء تنظیموں کو بزور طاقت خاموش کرانے کی پالیسی تعلیمی اداروں میں منفی ماحول، سفارش کلچر، بلیک میلنگ، ہراسگی اور مالی کرپشن جیسے رجحانات کو مضبوط کرے گی، مگر بدقسمتی سے اس طرف توجہ نہیں دی گئی۔ترجمان نے مزید کہا کہ اب انفرادی نوعیت کے واقعات سامنے آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ نظام میں شفافیت کا فقدان ہے۔

ہم طلباء اور اساتذہ کے مقدس رشتے کی قدر کرتے ہیں تاہم امتحانات اور دیگر اکیڈمک معاملات میں احتساب کا یکساں عمل ہونا ضروری ہے۔ اگر کسی مضمون کا رزلٹ خراب آتا ہے تو اس کی ذمہ داری صرف طلباء پر نہیں بلکہ اساتذہ اور کالج انتظامیہ پر بھی عائد ہوتی ہے۔

اسی طرح بلیک میلنگ جیسے تاثر کو ختم کرنے کے لئے لازم ہے کہ کیمپس کے تمام اہم معاملات بالخصوص امتحانی نظام میں طلباء و طالبات کو نمائندگی دی جائے تاکہ کوئی فرد یا ادارہ اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال نہ کر سکے۔

انہوں نے کہا ہے ہر کلاس کے سینئر طلباء و طالبات کو تحریری امتحانات کی مارکنگ اور زبانی امتحانات کے دوران بطور مبصر شامل کیا جائے تاکہ شفافیت برقرار رہے اور کسی طالب علم کو ناانصافی کا نشانہ نہ بنایا جاسکے۔

مزید برآں کوئی بھی عام طالب علم کسی ناجائز اقدام کے خلاف اکیلے کھڑا نہیں ہو سکتا، اس کے لئے اجتماعی آواز اور طلباء تنظیموں کا کردار ناگزیر ہے۔ تعلیمی اداروں کو چاہئے کہ کیمپس اور اکیڈمک معاملات میں طلباء تنظیموں کے ساتھ رابطے، مکالمے اور مشاورت کی پالیسی اپنائیں تاکہ بلوچستان یونیورسٹی کے پچھلے افسوسناک واقعات کی طرح بولان میڈیکل کالج میں کوئی ناخوشگوار صورتحال جنم نہ لے۔