|

وقتِ اشاعت :   November 17 – 2025

کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی نے کراچی میں بلوچستان کے عوام کو تنگ کرنے کا سلسلہ بند کرنے اور کوئٹہ و صوبے کے دیگر ہوائی اڈوں سے چلنے والی پروازوں کے کرایوں کو ملک کے دیگر شہروں کے مساوی کرنے سے متعلق دو قراردادیں متفقہ طور پر منظور کرکے بلوچستان پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کا (ترمیمی) مسودہ قانون متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا۔

بلوچستان اسمبلی کا اجلاس پیر کو ایک گھنٹے کی تاخیر سے اسپیکر کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی کی صدارت میں ہوا۔

اجلاس میں جمعیت علما اسلام کے رکن اصغر ترین نے اپنی قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پشین، چمن، خانوزئی، ژوب، مسلم باغ، لورالائی اور کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے پشتون کاروباری سرگرمیوں کے سلسلے میں کراچی اور سندھ کے دیگر مضافاتی علاقوں میں جاتے ہیں جن میں سے بیشتر کا تعلق ہوٹلنگ اور دیگر کاروبار سے ہے جنہیں گزشتہ ایک ماہ سے مسلسل سندھ پولیس اور کراچی کے لینڈ مافیا کے جانب سے بلاوجہ ہراساں کیا جارہا ہے تاکہ اپنا چلتا کاروبار چھوڑ کر سندھ سے واپس بلوچستان آنے پر مجبور ہوجائیں یہ طرز عمل نہ صرف کاروباری طبقے کے معاشی نقصان کا باعث بن رہا ہے بلکہ بین الصوبائی رابطوں اور قومی یکجہتی کے اصولوں کی بھی سراسر منافی ہے، لہذا یہ ایوان صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ فوری طور پر حکومت سندھ سے رجوع کرے کہ وہ کراچی اور سندھ کے دیگر مضافاتی علاقوں میں آباد پشتونوں کے ساتھ جاری ناانصافی اور ظلم کی فوری روک تھام کی بابت عملی اقدامات اٹھائے تاکہ صوبہ سندھ میں آباد پشتون قبائل کو اپنے کاروبار کے سلسلے میں تحفظ فراہم ہوسکے اور وہ بلاخوف وخطرہ اپنا کاروبار اور روزگار جاری رکھ سکیں۔

قرارداد کی موزونیت پر بات کرتے ہوئے محرک اصغر ترین نے کہا کہ بلوچستان کے لوگ بالخصوص صوبہ کے پشتون اضلاع کے عوام کراچی اور سندھ میں کاروبار اور محنت مزدوری کرنے جاتے ہیں کراچی میں چائے اور کھانے کے 90 فیصد ہوٹل بلوچستان کے پشتونوں کے ہیں، اس وقت سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے جس کی جمہوریت اور عوام کیلئے جدوجہد ہے بلوچستان میں بھی پیپلز پارٹی کی حکومت ہے لیکن بدقسمتی سے گزشتہ چند ہفتوں سے کراچی میں پشتونوں خاص طور پر تجارت سے وابستہ پشتونوں کو تنگ اور گرفتار کیا جارہا ہے ان کی ہوٹلوں اور دکانوں پر چھاپے مارے اور وہاں موجود مال کو اسمگلنگ کا مال قرار دیا جاتا ہے جو سمجھ سے بالاتر ہے، بنا کسی ایف آئی آر پشتونوں کو حراست میں لیا جاتا ہے، بلوچستان حکومت اس سلسلے میں سندھ حکومت سے رابطہ کرکے پشتونوں اور ان کے کاروبار کو تحفظ فراہم کرائے، انہوں نے اسپیکر سے استدعا کی سندھ حکومت سے بات چیت کیلئے حکومت اور اپوزیشن ارکان پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے۔

سینئر صوبائی وزیر پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر میر صادق عمرانی نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ اپنے ہر دور اقتدار میں لوگوں کو بلاامتیاز روزگار کے مواقع فراہم کئے، وفاقی حکومت کی ہدایت پر غیرقانونی کاروبار اور غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کاروائی ہوئی ہے، پیپلز پارٹی کی حکومت کسی کو تنگ کرنے پر یقین نہیں رکھتی، انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ سندھ حکومت سے بات کی جائے محرک اپنی قرارداد واپس لے لیں۔

صوبائی وزیر زراعت میر علی حسن زہری نے کہا کہ کراچی یا اندرون سندھ سندھ حکومت کی ہدایت پر نہیں بلکہ وفاقی حکومت کی ہدایت پر کاروائی کی جارہی ہے انہوں نے یقین دلایا کہ وہ اس سلسلے میں صدر آصف علی زرداری سمیت سندھ حکومت سے بات کرنے کیلئے تیار ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ کراچی میں پشتونوں کو بلاجواز تنگ کیا جارہا ہے اور یہ سلسلہ کوئی نیا نہیں ہے 1980ء کی دہائی اور اس کے بعد بھی پشتونوں کو تنگ کیا جاتا رہا ہے، پشتون کراچی میں محنت مزدوری اور کاروبار کرتے ہیں ان کو بلاجواز تنگ اور ان کا کاروبار بند کیا جارہا ہے انہوں نے اسپیکر سے استدعا کی کہ حکومتی اور اپوزیشن ارکان پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے جو سندھ حکومت سے جاکر اس مسئلہ پر بات کرے۔

جماعت اسلامی کے رکن مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نے کہا کہ پورے بلوچستان سے لوگ تجارت، محنت مزدوری اور علاج معالجہ کیلئے کراچی جاتے ہیں مگر بدقسمتی سے وہاں ان سے افسوسناک رویہ اپنایا جاتا ہے ان کی تذلیل کی جاتی ہے، انہوں نے اسپیکر سے استدعا کی کہ قرارداد میں صرف پشتون نہیں بلکہ بلوچستان کے تمام عوام کو شامل کیا جائے۔

نیشنل پارٹی کے رکن خیر جان بلوچ نے کہا کہ نہ صرف پشتون بلکہ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے بلوچ بھی کاروبار محنت مزدوری اور علاج معالجہ کیلئے کراچی جاتے ہیں انہیں بھی وہاں پر تنگ کیا جاتا ہے کراچی انتظامیہ اور پولیس کا بلوچستان کے عوام سے رویہ افسوسناک ہے اس سلسلے میں کمیٹی تشکیل دی جائے۔

بلوچستان عوامی پارٹی کے پرنس آغا عمر احمد زئی نے اسپیکر سے استدعا کی کہ وہ اپنی صدارت میں کمیٹی قائم اور قرار داد کو پورے ایوان کی مشترکہ قرار داد میں تبدیل کریں۔

پارلیمانی سیکرٹری برکت علی رند نے کہا کہ بلوچستان سے کراچی جانے والوں کو کراچی میں داخل ہونے سے پہلے بلاجواز طور پر روک کر ان کی تلاشی لی اور تذلیل کی جاتی ہے اس کے تدارک کیلئے سندھ حکومت سے بات چیت کیلئے کمیٹی بنائی جائے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے زرک خان مندوخیل نے بھی قرارداد اور کمیٹی کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں بلوچستان سے جانے والے تمام لوگوں کو تنگ کیا جارہاہے قانونی سامان کو بلاجواز ضبط کیا جاتا ہے یہ سلسلہ بند ہونا چائیے۔

جمعیت علماء اسلام کے سید ظفر آغا نے کہاکہ کراچی میں بلوچستان کے عوام کے ہوٹلوں کو بند کرکے ایک جانب مالکان کو مالی مشکلات سے دوچار اور وہاں محنت مزدوری کرنے والوں کو بے روزگار کرکے ناانصافی کی جارہی ہے، انہوں نے اسپیکر سے استدعا کی کہ وہ اس سلسلے میں اسپیکر سندھ اسمبلی سے رابطہ کریں اور ایوان کی کمیٹی بھی تشکیل دیں۔

عوامی نیشنل پارٹی کے ملک نعیم بازئی نے کہا کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ کراچی میں بلوچستان کی عوام کو تنگ کیا جاتا ہے اس وقت کراچی میں لاکھوں پشتون آباد ہیں ان کے ہوٹل، کاروبار بند کئے جارہے ہیں یہ ظلم بند کرایا جائے اور اس سلسلے میں فوری طور پر کمیٹی تشکیل دی جائے۔

رکن بلوچستان اسمبلی مولوی نور اللہ نے کہاکہ یہ قرارداد نہ تو پیپلز پارٹی اور نہ ہی سندھ حکومت کے خلاف ہے بلکہ یہ کراچی پولیس اور کراچی انتظامیہ سے ہماری شکایت ہے، پیپلز پارٹی کے ارکان بھی اس قرارداد کی حمایت کرکے مسئلہ کے حل میں تعاون کریں۔

بعد ازاں اسپیکر نے قرارداد کو پورے ایوان کی مشترکہ قرارداد اور قرارداد کے متن میں پشتون قوم کی بجائے بلوچستان کے عوام کے الفاظ شامل کرنے کی رولنگ دی اور ایوان نے قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔

اجلاس میں جمعیت علما اسلام کی رکن شاہدہ روف نے اپنی قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایوان اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ کوئٹہ سے ملک کے دیگر شہروں کے لئے پی آئی اے اور دیگر نجی ائیرلائنز کی جانب سے کرایوں میں غیر معمولی اضافہ کردیا گیا ہے جو ملک کے دیگر شہروں کے مقابلے میں نہایت زیادتی اور امتیازی سلوک ہے اس وقت کوئٹہ سے کراچی کا یکطرفہ کرایہ 43 ہزار سے 45 ہزار بلکہ بعض اوقات تو 60 ہزار روپے تک کرائے وصول کئے جارہے ہیں جب کہ کوئٹہ سے اسلام آباد تک کرایہ 70 ہزار روپے سے تجاوز کرچکا ہے، اس کے برعکس کراچی سے لاہور یا اسلام آباد تک کرائے صرف 15 ہزار 20 ہزار کے درمیان ہیں یہ اعداد شمار اس امر کی واضح عکاسی کرتے ہیں کہ بلوچستان کے عوام کے ساتھ فضائی سفر کے معاملے میں امتیازی رویہ اختیار کیا گیا ہے جس سے نہ صرف صوبے کے مسافروں کو مالی مشکلات کا سامنا ہے بلکہ بلوچستان کی ملک کے دیگر شہروں سے تجارتی اور انتظامی روابطہ بھی شدید متاثر ہورہے ہیں۔

لہذا یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ وہ فوری طور پر وفاقی حکومت، وزارت ہوابازی، پی آئی اے اور دیگر نجی فضائی کمپنیوں سے رجوع کرے کہ وہ کوئٹہ اور صوبے کے دیگر ہوائی اڈوں سے چلنے والی پروازوں کے کرایوں کو وری طور پر ملک کے دیگر شہروں کے مساوی سطح پر لانے کو یقینی بنانے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔

قرار داد کی موزونیت پر بات کرتے ہوئے شاہدہ روف نے کہاکہ کوئٹہ سمیت پورے بلوچستان کے حالات ہمارے سامنے ہیں آئے روز شاہرائیں بند اور ریل سروس معطل رہتی ہے ایسے میں بلوچستان کے عوام کیلئے صرف جہاز کے سفر کا آپشن موجود ہے ہونا تو یہ چائیے تھا کہ قومی ائیرلائن سروس سمیت تمام نجی کمپنیاں کوئٹہ سے زیادہ پروازیں چلاتیں مگر صورتحال اس کے برعکس ہے دوسری جانب ملک بھر کے مقابلے میں کوئٹہ سے جہاز کے کرائے ناقابل برداشت ہیں کوئٹہ سے اسلام آباد کا ایک طرف کا کرایہ 70 سے 80 ہزار روپے ہے کسی بھی ہنگامی حالت میں ٹکٹوں کا حصول مشکل ہوتا ہے۔

انہوں نے اسپیکر سے استدعا کی کہ پی آئی اے اور دیگر فضائی کمپنیوں کے حکام کو بلاکر اس سلسلے میں بات کی جائے اور اس سلسلے میں ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے۔

ڈپٹی اسپیکر غزالہ گولہ نے کہاکہ جہاز کے کرایے ناقابل برداشت ہوچکے ہیں ایوان کی کمیٹی بناکر متعلقہ حکام سے بات کی جائے اور قرار داد کو پورے ایوان کی مشترکہ قرار داد میں تبدیل کیا جائے۔

صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی نے کہا کہ صرف ائیر لائنز کے حکام کو نہیں بلکہ وزارت ہوا بازی کے حکام کو بھی بلایا جائے، اسپیکر کی قیادت میں کمیٹی بناکر متعلقہ وزارت کے حوالے سے بات کی جائے انہوں نے کہاکہ ایک جانب کرایے بہت زیادہ ہیں تو دوسری جانب گھنٹوں کے حساب سے ان کرایوں میں مزید اضافہ کیا جاتا ہے اس کیلئے اسلام آباد جاکر بات کرنا ہوگی۔

بی این پی عوامی کے میر اسد اللہ بلوچ نے کہاکہ ہم یہاں ہمیشہ قرار دادیں منظور کرتے ہیں بتایاجائے وفاق نے آج تک کسی ایک قرار داد پر عملدرآمد کیا جائے ضرورت اس بات کی ہے کہ ایوان سے قرار داد منظور کرنے کے بعد سب کو ساتھ لیکر چلاجائے اور قرار داد وں پر عمل کرایا جائے۔

پارلیمانی سیکرٹری مینا مجید نے کہا کہ ائیر لائن کمپنیاں بلوچستان کے عوام سے ناانصافی کررہی ہیں اس امتیازی سلوک کے خلاف ایوان کی کمیٹی بناکر متعلقہ حکام سے بات کی جائے انہوں نے استدعا کی کہ قرار داد کے متن میں کوئٹہ سے تربت اور گوادر کیلئے پروازیں شروع کرنے کا مطالبہ شامل کیا جائے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے انجینئر زمرک خا ن اچکزئی نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کیساتھ فضائی کمپنیوں کا یہ امتیازی رویہ کوئی نیا نہیں ایک جانب کوئٹہ سے اندرون ملک کیلئے پروازوں کی تعداد انتہائی کم ہے دوسری جانب پروازیں اچانک منسوخ کردی جاتی ہیں نجی فضائی کمپنیاں کوئٹہ سے پرواز نہیں چلارہی ہیں انہوں نے کہاکہ اسلام آباد سے کراچی یا پشاور کیلئے جہاں کرایہ 20 سے 20 ہزار روپے ہے وہاں ان شہروں کیلئے کوئٹہ سے کرایہ سے 70 سے 80 ہزار روپے سے کم نہیں انہوں نے اسپیکر سے استدعا کی کہ نجی کمپنیوں کے حکام کو بلاکر کوئٹہ سے ان کی پروازیں شروع کرائی جائیں کرایوں کو ملک کے دیگر شہروں کے یکساں کیا جائے اگر ہمارے مطالبہ پر عملدرآمد نہیں ہوتا توہمیں عدالت سے رجوع کرنا چائیے۔

بی اے پی کی رکن فرح عظیم شاہ نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ قرارداد کو پورے ایوان کی مشترکہ قرارداد میں تبدیل کیا جائے۔

پارلیمانی سیکرٹری برکت رند نے کہا کہ جہازوں کے بھاری کرایہ ایک اہم مسئلہ ہے اس کے حل کیلئے تمام متعلقہ حکام کو یہاں بلاکر ان سے بات کی جائے کوئٹہ سے تربت کیلئے ہفتہ وار کم از کم ایک پرواز شروع کی جائے۔