|

وقتِ اشاعت :   November 18 – 2025

کوئٹہ: جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر مولانا عبد الرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس، سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد ، مولانا محب اللہ ، مولانا محمد ایوب، مولانا محمد سلیمان ، ڈپٹی سیکرٹری جنرل حاجی بشیر احمد کاکڑ ، حاجی رحمت اللہ کاکڑ ، سید حاجی عبد الواحد آغا ، حافظ مسعود احمد،حاجی ولی محمد بڑیچ ،سیکرٹری مالیات حاجی صالح محمد ، مفتی رضا خان ،رحیم الدین ایڈووکیٹ ، مولانا محمد عارف شمشیر،سالار مولوی علی جان مولوی سعد اللہ آغا اور دیگر ذمہ داران نے کوئٹہ شہر اور گرد و نواح میں انٹرنیٹ سروس کی بارہا بندش پر شدید تشویش اور غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیکورٹی کے نام پر عوام کو بنیادی سہولت سے محروم کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔

شہری پہلے ہی مہنگائی، بیروزگاری اور معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے میں مواصلاتی ذرائع کا بار بار معطل ہونا عوام کے زخموں پر مزید نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ آج کے دور کی بنیادی ضرورت ہے۔ لاکھوں طلباء ، مریض، تاجر، میڈیا ورکرز، ٹیکسی ڈرائیورز اور مختلف سروسز سے وابستہ افراد کا روزگار اور رابطہ نظام مستقل نوعیت کے انٹرنیٹ پر منحصر ہے۔

اس کے باوجود بغیر پیشگی اطلاع کے گھنٹوں، بلکہ دنوں تک سروس معطل ہونا انتہائی غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل ہے، جس کی وجہ سے تعلیمی سرگرمیاں، آن لائن کاروبار، بینکنگ، ہسپتالوں کے نظام اور میڈیا کے فرائض شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

رہنماؤں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ سیکورٹی انتظامات کو بہتر بنانا حکومت اور اداروں کی ذمہ داری ہے، نہ کہ عوام کو سزا دینا۔ بار بار نیٹ بلاک کرنے سے نہ عسکریت پسندی کم ہوگی اور نہ ہی امن و امان بہتر ہوگا، بلکہ عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد مزید کمزور پڑے گا۔

اگر کسی مقام پر مخصوص خدشات ہیں تو وہاں ٹارگٹڈ اقدامات کیے جائیں، پورے شہر کو اندھیرے میں دھکیلنے کا سلسلہ فوری بند کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پہلے ہی ڈیجیٹل اور معاشی محرومیاں اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہیں۔ ایسے میں انٹرنیٹ بندش نے صوبے کے نوجوانوں، طلباء اور کاروباری طبقے کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔

رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ پی ٹی اے، متعلقہ محکمے اور صوبائی حکومت فوری طور پر انٹرنیٹ سروس کی تسلسل کے ساتھ بحالی یقینی بنائیں اور مستقبل میں کسی بھی قسم کی بندش سے قبل عوام اور اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے۔