اسلام آباد: سینیٹ کی پٹرولیم کمیٹی نے ریکوڈک منصوبے کا انتظامی کنٹرول رکھنے والی بیرک گولڈ کمپنی کے حکام کو اگلے اجلاس میں طلب کر لیا،کمیٹی نے جامشورو جائیٹ وینچر معاہدے میں 5سالوں کی تاخیر پر تفصیلی بریفنگ دینے کی ہدایت کی ہے۔
منگل کو سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کا اجلاس چیئرمین عمر فاروق کی زیر صدارت منعقد ہوا اجلاس کمیٹی اراکین کے علاوہ سیکرٹری پٹرولیم سمیت ایم ڈی ریکوڈک،چیرمین اوگرا اور سوئی سدرن و سوئی نادرن کے حکام نے شرکت کی اجلاس کو سوئی سدرن کے حکام نے بتایا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی میں لوڈشیڈنگ نہیں کرتے ہیں جبکہ رات کو لوڈ منجمنٹ کیا جاتا ہے حکام نے بتایا کہ گھریلو صارفین ہماری اولین ترجیح ہوتی ہے سندھ میں لوڈشینگ پالیسی نہیں ہے
وہاں پر رات دس سے صبح پانچ بجے تک گیس بند ہوتی ہے حکام نے بتایا کہ ہمارے پاس گیس 12 سو ایم ایم سی ایف ڈی سے کم ہو کر 698ایم ایم سی ایف ڈی رہ گئی ہے رکن کمیٹی سینیٹر حاجی ہدایت اللہ نے کہاکہ اب سردیاں ا گئی ہیں اور صبح کے ٹائم گیزر بھی نہیں چلتا ہے سینیٹر بلال احمد نے کہاکہ ملک میں گیس نہیں ہے اور ہم آر ایل این جی دوسرے ممالک کو فروخت کر رہے ہیں جس پر حکام نے بتایا کہ آر ایل این جی مہنگی گیس ہے ہم نے سب چیزوں کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا کہ آر ایل این جی کی درآمد کو کم کیا جائے
حکام نے بتایا کہ ہر ماہ دس کارگو منگواتے ا رہے تھے جبکہ ہماری پچپن فیصد گیس پیداوار سندھ سے ہوتی ہے پنجاب سے تین سے چار فیصد جبکہ خیبر پختونخواہ سے پچیس سے تیس فیصد پیداوار ہوتی ہے حکام نے بتایا کہ بلوچستان سے چار سو سے پانچ سو ایم ایم سی ایف ڈی پیداوار ہے اجلاس کے دوران ایم ڈی سوئی نادرن گیس کمپنی عامر طفیل گیس کی فراہمی کے حوالے سے لاعلم نکلے جس پر کمیٹی اراکین نے ایم ڈی سوئی نادرن گیس کی لاعلمی پر برہمی کا اظہار کیا ایم دی سوئی نادرن نے کمیٹی کو بتایا کہ میں اس ایجنڈے کے لئے تیار ہو کر نہیں آیا تھا آئندہ اجلاس میں مکمل معلومات مہیا کر دی جائے گی اجلاس کے دوران ملک میں گیس کی پیداوار سے متعلق ڈی جی پی سی بھی لاعلم نکلے
اس موقع پر کمیٹی اراکین کا تیاری کر کے نہ آنے پر وزارت پیٹرولیم پر برہمی کااظہار کیا چیرمین کمیٹی نے کہاکہ اگر آئندہ تیاری کر کے نہ ائے تو ہم وزیراعظم کو خط لکھیں گے انہوں نے کہاکہ کمیٹی کے بلانے پر ایم ڈی حضرات بھی نہیں آتے ہیں رکن کمیٹی سینیٹر جام سیف اللہ نے کہاکہ کمیٹی سے جان بوجھ کر معلومات چھپائی جاتی ہیں سینیٹر حاجی ہدایت اللہ نے کہاکہ کمیٹی کا استحقاق مجروع کیا جا رہا ہے جس پر سیکرٹری پٹرولیم نے کہاکہ ہم اس کمیٹی کو سنجیدہ لیتے ہیں
ہم سول سرونٹ عوام کو جوابدہ ہیں تاہم اگر کوئی ایسا ڈیٹا درکار ہے جو ابھی نہیں ہے وہ منگوا کر دے دیں گے رکن کمیٹی سینیٹر بلال احمد نے کہاکہ کوئٹہ میں گیس مل ہی نہیں رہی ہے
انہوں نے کہاکہ کوئٹہ میں بھی انسان رہتے ہیں اگر گیس نہ ملی تو بجلی چوری کریں گے اجلاس میں سیکرٹری پٹرولیم نے بتایا کہ بلوچستان میں گیس کے اسی فیصد میٹر ٹیمپرڈ ہیں اور کیس سپریم کورٹ میں چل رہا ہے جس پر سینیٹر قرات العین نے کہاکہ اس میں کوئی شک نہیں ہے
تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے انہوں نے کہاکہ ہمیں حل بتائیں کہ کیسے چیزوں کو بہتر کیا جا سکتا ہے انہوں نے کہاکہ کراچی میں نیا چلان سسٹم آنے کے بعد لوگ ٹریفک قوانین پر عمل کر رہے ہیں سیکرٹری پٹرولیم نے کہاکہ اسی فیصد گیس میٹر کی ٹیمپرنگ بند ہونی جائے کمیٹی نے بلوچستان میں گیس کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے مستقل حل نکالنے کی ہدایت کی اجلاس کو ایم ڈی ریکودک نے بتایا کہ ریکوڈک منصوبے پر کام جاری ہے جبکہ بیرک کے پاس مکمل منیجمنٹ کنٹرول ہے اور پچاس فیصد شئیر بیرک کے پاس ہیں حکام نے بتایا کہ 12 ڈائریکٹرز میں سے سات بیرک کے نامزد کردہ ہیں اس موقع پر چیرمین کمیٹی نے استفسار کیا کہ اگر منیجمنٹ بیرک گولڈ کے پاس ہے تو ان کو کمیٹی اجلاس میں آنا چاہیے تھا اس موقع پر کمیٹی ارکان نے ریکوڈک کے حکام کے نہ آنے پر برہمی کا اظہار کیا ریکوڈک اجلا س کو سیکرٹری پٹرولیم نے بتایا کہ ریکوڈک کی بورڈ میٹنگ اسلام آباد میں ہوتی ہیں
بورڈ میٹنگ کے کچھ اجلاس برطانیہ میں بھی ہوئے انہوں نے کہاکہ اس سال دو دفعہ ای سی سی اور کابینہ میں گئے ہیں ہم نے بہت سی فنانسنگ حاصل کر لی ہے جس میں ساڑھے تین ارب ڈالر کی لینڈنگ فنانسنگ ہے اور باقی بیرک مہیا کرے گی کمیٹی کا بیرک کمپنی سے بھی بریفنگ لینے کا فیصلہ بیرک والوں کو بلا کر بریفنگ لی جائے کمیٹی کو بتایا گیا کہ ریکوڈک منصوبے سے سونے اور کاپر کی پیداوار دسمبر 2028 میں شروع ہو جائے گی اور تین سال میں پیداوار کا ہدف ہے سیکریٹری پٹرولیم نے کمیٹی کو بتایا کہ ریکوڈک کا مکمل انتظامی کنٹرول بیرک گولڈ کمپنی کے پاس ہے اور بیرک گولڈ کے پاس ریکوڈک کے 50 فیصد شیئرز ہیں جبکہ 25 فیصد شیئرز ہماری پٹرولیم کمپنیوں اور 15 فیصد حکومت بلوچستان کا ہے حکام نے بتایا کہ ریکوڈک منصوبے پر 10 سے 15 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے
رکن کمیٹی سینیٹر قرات العین مری نے کہاکہ ریکوڈک کے نمائندے یہاں کمیٹی میں کیوں نہیں ہیں انہوں نے کہاکہ بڑی شراکت دار کمپنی تو بیرک گولڈ ہے انہیں کمیٹی میں آنا چاہئیے کیا وہ پارلیمنٹ کو جواب دہ نہیں ہیں جس پر سیکرٹری پٹرولیم نے کہاکہ ہمارے لیے مسئلہ نہیں ہے ہم بیرک گولڈ کے نمائندوں کو لے آئیں گے
انہوں نے کہاکہ ریکوڈک منصوبے کیلئے کل ضروریات کا تخمینہ 7.7 ارب ڈالر لگایا گیا ہے اس وقت تک ریکوڈک کیلئے 2.5 ارب ڈالر سکیور کر لیے گئے ہیںریکوڈک کے تین فیز ہیں، پہلے فیز کی پیداوار 2028 میں شروع ہوجائے گی
انہوں نے کہاکہ پہلے فیز کی پیداوار سے بھی ریکوڈک کے دوسرے دو فیز کی فائنانسنگ ہوگی
جبکہ ریکوڈک منصوبے کا دوسرا فیز 2031 میں شروع ہوگا انہوں نے بتایا کہ ریکوڈک منصوبے سے سونے اور کاپر کی پیداوار ہوگی ریکوڈک کے فیز ون اور ٹو سے بلوچستان کو 26 ارب ڈالر ملیں گے ریکوڈک منصوبے دونوں اسٹیک ہولڈرز کو براہ راست معاشی فائدے حاصل ہوں گے ریکوڈک منصوبہ مقامی کمیونٹیز کو صاف پانی فراہم کرے کے منصوبوں سمیت 7 پرائمری اسکولوں کی اپ گریڈیشن جاری ہے حکام نے بتایا کہ ریکوڈک منصوبے سے 7,500 روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے جبکہ یکوڈک کے تعمیراتی مرحلے میں 2,300 مقامی ملازمین کام کریں گے اس منصوبے میں 70 فیصد ملازمین کا تعلق بلوچستان سے ہوگا اور1,000 سے زائد مقامی افراد کے لیے اسکل ٹریننگ پروگرام شروع کر دی گئی ہے حکام نے بتایا کہ بلوچستان کے 27 طلبہ کو بیرون ملک اسکالرشپس دی جا چکی ہیں جبکہ 380 سے زائد چاغی ڈسٹرکٹ کے افراد نے ووکیشنل ٹریننگ حاصل کی ہے یہ منصوبہ مقامی کمیونٹیز کیلئے ترقیاتی فریم ورک میں اہم کردار ادا کرے گا کمیٹی نے بلوچستان کے سکالر شپ حاصل کرنے والے طلباء اور ہنرمندوں کی تفصیلات بھی طلب کر لی۔کمیٹی کو جامشورو جوائنٹ وینچر لیمیٹڈ سے متعلق بریفنگ کے موقع پر چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ ایک صفحے کا بریف دے دیا نہ کافی ہے بڑا منصوبہ ہے انہوں نے کہاکہ اس کا معاہدہ 2020میں ختم ہو گیا تھا اب دوبارہ ہوا ہے پہلے کیوں معاہدہ نہ ہو سکا کتنے بقایا جات ہیں آگاہ کیا جائے۔
کمیٹی اراکین نے کہاکہ جے جے وی ایل کی سپریم کورٹ میں جمع کی گئی رپورٹ بھی دی جائے۔ کمیٹی نے جے جے وی ایل پر مکمل تفصیلات طلب کر لی۔ ۔ ۔ ۔ ۔