کوئٹہ : پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنماء و سینیٹر سابق وفاقی وزیر میر دوستین خان ڈومکی نے دعویٰ کیاہے
کہ بلوچستان میں غلط طرز حکمرانی ، بد امنی، اقربا پروری ، کرپشن، بیڈ گورننس کے سبب آئندہ چند روز میں میر سرفراز بگٹی کو وزارت اعلیٰ کے منصب سے ہٹانے کے فیصلہ کیاہے اور نئے وزیرا علیٰ کے لئے پیپلزپارٹی میں مشاورت کا عمل شروع ہے ۔
’’آن لائن‘‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے میر دوستین خان ڈومکی نے کہا ہے کہ میں نے ایک ماہ قبل عندیہ دیا تھا کہ جلد ہی پیپلزپارٹی کے اندر سے بلوچستان حکومت میں تبدیلی آرہی ہے کیونکہ موجودہ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے نہ صرف پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت، وزیر اعظم پاکستان، وفاقی حکومت اور مقتدر حلقوں کو بھی سخت مایوس کیا ہے کیونکہ اس وقت ملک کے حالات کے تناظر میں افواج پاکستان جان کی قربانیاں دیکر امن کی بحالی میں اپنا کردار ادا کررہی ہے
لیکن موجودہ حکومت کی بیڈ گورننس ، اقربا پروری اور کرپشن سمیت غلط طرز حکمرانی میں مصروف عمل ہے جس کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں پر پانی پھیر دیاہے۔
انہوں نے کہا کہ میری معلومات کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کی شراکت اقتدار کی مدت ماہ اگست میں پوری ہوجائے گی بد امنی اور امن وامان سمیت صوبے کی بحرانی کیفیت کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی نے اندر سے ہی تبدیلی لانے کے لئے حتمی فیصلہ کرلیا گیا ہے اور پارٹی کے اندر سے ہی اپنا وزیر اعلیٰ کا نیا امیدوار ڈھائی سالہ مدت پوری کرنے کے لئے لانے کے لئے پیپلزپارٹی کی مرکزی اور اعلیٰ قیادت نے مشاورت شروع کردی ہے
تاکہ پارٹی کے اندر سے ہی کوئی نیا وزیرا علیٰ لایا جائیگا
جو اگست تک پیپلزپارٹی کا وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھال کر اقتدار کی ڈھائی سالہ مدت پوری کرے گا نئے وزیر اعلیٰ کے امیدوار کے حوالے سے پوچھے گئے
سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان پیپلزپارٹی کا اندرونی معاملہ ہے کہ وہ کس امیدوار کو وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالنے کے لئے لاتے ہیں بحیثیت پاکستان مسلم لیگ کے سینئر رہنماء اور سینیٹر کی حیثیت سے میں چاہتا ہوں کہ جلد از جلد سرفراز بگٹی کی وزارت اعلیٰ کا خاتمہ ہو تاکہ لوگ سکھ کا سانس لے اور صوبے کے حالات کی بہتری، بحرانی کیفیت سے نکالنے کیلئے امن وامان کی بحالی کیلئے افواج پاکستان جو قربانیاں دے رہی ہے اس کا ثمر عام آدمی تک پہنچ سکے۔