کوئٹہ : امیرجماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں لوٹ مار،اقربا پروری کرپشن وکمیشن کابازارگرم ہے
عوام کے بجائے سیکورٹی فورسزکی حفاظت کی جارہی ہے سول افرادکی خ جمہوری حکمرانی کے بجائے اسٹبلشمنٹ واسلام آبادکے طاقتورطبقات کویس سرکہنے والوں کی ناکام حکومت ہے
جگہ جگہ چیک پوسٹیں،تلاشی،بے عزتی،رشوت کی طلبی، شاہراہوں وبارڈرکی بندش نے مسائل ومشکلات اورعوام کے غم وغصے میں اضافہ کردیاہے۔ان خیالات کااظہارانہوں نے امرائے اضلاع وذمہ داران کولاہوراجتماع عام کیلئے رخصت کرنے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیاانہوں نے کہا کہ کل پاکستان اجتماع عام میں لاکھوں افرادکے سامنے آئندہ لائحہ کالائحہ عمل پیش کیاجائیگا
ہم نے بلوچستان کے عوامی اجتماعی سلگتے مسائل کے حل اورحقوق کے حصول کیلئے کوئٹہ میں اسلام آباد کی طرف حقوق بلوچستان لانگ مارچ کیاحکمرانوں نے مطالبات ماننے مسائل کوحل کرنی تحریری یقین دہانی کروائی لیکن تاحال ہمارے مسائل میں کمی آئی نہ مطالبات مان لیے گیے ہیں
ہم عوامی قوت سے اپناجمہوری مزاحمتی تحریک جاری رکھیں گے۔عوام کولٹیروں چوروں اوردشمنوں سے نجات دلائیں گے وسائل معدنیات لوٹنے والے ہم پر مسلط ہے ان ظالموں سے نجات وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اسمبلی میں عوامی مسائل کے حل ظلم وجبرلوٹ مارزیادتیوں کے خلاف جدوجہد سے کوئی نہیں روک سکتا۔
اسمبلی میں عوامی حقوق کے حصول کیلئے اورظلم وزیادتیوں کے خلاف بات سے رکھوانا،مائیک بندکرنادانشمندی نہیں ظلم ہے بدقسمتی سے بلوچستان اسمبلی میں فارم47کے نمائندے بہت زیادہ ہے اس وجہ سے عوام کے مفادات کیلئے آوازاٹھانے والے کوسننے والابھی نہیں اسمبلی کوعوام کے مسائل کے حل زیادتیوں وظلم اورلوٹ مارکے خلاف قانون سازی کرنی چاہیے جماعت اسلامی اسمبلی کے اندراورباہرعوام کی تواناآوازہے۔