کوئٹہ: پشین کے رہائشی ظہور احمد نے کہا ہے کہ میری بہن کو ایک مہاجر اغواء کرکے لے گیا ہے۔ اس حوالے سے علاقے قبائلی رہنماؤں سے رابطہ کیا فیصلہ کرنے کے لئے قبائلی رہنماء نے لڑکی کی بازیابی کیلئے ہم سے 15 لاکھ روپے لئے مگر تا حال کوئی شنوائی نہیں ہوئی ہے
جس کی وجہ سے ہمیں ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان، آئی جی پولیس سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بہن کی بازیابی کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا اس موقع پر علی محمد کاکڑ بھی موجود تھے۔
ظہور احمد نے کہا کہ میری بہن کی نکاح ہوچکی ہے رخصتی باقی تھی کہ ایک مہاجر نے اغواء کرکے لے گیا ہے الزام عائد کیا کہ اس حوالے سے علاقے کے معتبرین سے مسئلے کے حل کیلئے رابطے کئے اور ملک ہاشم نے ہم سے 15 لاکھ روپے لیکر مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانی کرائی لیکن تا حال لڑکی کی بازیابی ممکن نہیں ہوئی ہے بار بار قبائلی رہنماء سے رابطہ کرنے کے باوجود تسلی بخش جواب نہیں دیتا ہے
جس کی وجہ سے ہماری مشکلات اور مسائل میں اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہن کی اغواء سے خاندان پریشان اور مشکلات سے دو چار ہے۔ بازیابی کیلئے لوگوں سے ادھار لیکر پیسے دیئے جس کے باعث مشکلات اور مصائب کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ہم حکام بالا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس ظلم کے خلاف ہماری داد رسی کرکے بہن کی بازیابی میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ ہم سکھ کا سانس لے سکیں۔