|

وقتِ اشاعت :   November 20 – 2025

کوئٹہ :  بلوچستان ہائیکورٹ میں مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025 کے خلاف دائر آئینی درخواستوں کی سماعت، عدالت نے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کے جواب جمع کرانے کیلئے مزید وقت دینے کی استدعا پر سماعت ملتوی کردی۔

سینئر قانون دان سید نذیر آغا ایڈووکیٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان ہائیکورٹ کے قائمقام چیف جسٹس جسٹس کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد ایوب ترین پر مشتمل دو رکنی بینچ نے بلوچستان اسمبلی سے منظور ہونے والے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025 کے خلاف سینئر سیاست دان وسابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی ودیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے دائر آئینی درخواستوں کی سماعت کی،

دوران سماعت درخواست گزار نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی کے وکیل سینئر قانون دان محمد ریاض احمد ایڈووکیٹ، سید نذیر آغا ایڈووکیٹ اور بیرسٹر محمد اقبال کاکڑ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ وفاقی حکومت کی طرف سے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل آف پاکستان محمد انور نسیم کاسی اورصوبائی حکومت کی طرف سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل ظہور احمد بلوچ عدالت میں پیش ہوئے دوران سماعت اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان ظہوراحمد بلوچ نے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کی معطلی کے حوالے سے وزیراعلی بلوچستان میر سرفرازبگٹی کے بیان سے متعلق جواب جمع کرانے کیلئے عدالت سے مزید وقت دینے کی استدعا کی جس پر عدالت نے ان کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی،

سید نذیر آغا ایڈووکیٹ نے بتایا کہ گزشتہ سماعت پر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے وزیراعلی بلوچستان کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت سے استدعا کی تھی کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کی معطلی کے حوالے سے بلوچستان حکومت کے ایگزیکٹو آرڈر کو بلوچستان ہائیکورٹ کے ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے جس پر عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومت کو نوٹسسز جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کیا تھا۔