|

وقتِ اشاعت :   November 21 – 2025

کوئٹہ: بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹرکہدہ بابرنے وفاقی حکومت کو ’’گوادر ٹیکس فری زون سے متعلق پروپوزل‘‘ پیش کردیا،سینیٹرکہدہ بابرکی تجاویزکے مطابق گوادر کی اسٹریٹجک لوکیشن کے باوجود وفاقی سطح پرٹیکس استثنیٰ نہ ملنے سے معاشی صلاحیت پوری طرح سامنے نہیں آ سکی،

وفاقی ٹیکس فری اسٹیٹس گوادر کو ایک حقیقی بین الاقوامی اقتصادی حب میں تبدیل کر سکتا ہے،

ٹیکس فری اسٹیٹس کی بدولت ملک کے لیے طویل المدتی فائدہ مند سرمایہ کاری ہوگی،موجودہ سرحدی تجارت قومی معیشت کو محدود فائدہ دیتی ہے،

کہدہ بابر نے کہاکہ ٹیکس فری پالیسی سے تجارت ویلیو ایڈیشن کے بعد اعلیٰ قیمت پر برآمد ہوگی،ٹیکس فری زون کی بدولت پورٹ آپریشنز، شپنگ،لاجسٹکس، صنعتی منافع اور سرمایہ کاری سے کہیں زیادہ بالواسطہ ریونیو حاصل ہوگا۔وفاقی ٹیکس فری اسٹیٹس ملنے سے ایران سے خام مال انتہائی کم قیمت پر درآمد کیا جا سکے گا،ٹیکس فری اسٹیٹس ملنے سے صنعتی لاگت نمایاں کم ہوگی،

بی اے پی رہنماء نے کہاکہ ٹیکس فری اسٹیٹس سے صنعتوں کوکراچی جیسے دوردرازسپلائی مراکزپرانحصارنہیں کرناپڑیگا،ٹیکس فری اسٹیٹس کی بدولت وقت اور اخراجات کی بچت ہوگی،کراچی پورٹ پرموجود بوجھ کم ہو کر قومی تجارتی نظام مزید تیز، منظم اور مؤثر ہوگا،گوادر میں غذائی پراسیسنگ، ٹیکسٹائل فنشنگ، پیکجنگ، کیمیکل و پلاسٹک مصنوعات،الیکٹرانکس اسمبلی جیسی نئی صنعتیں تیزی سے فروغ پائیں گی۔انہوں نے کہاکہ نئی صنعتوں کے قیام سے مقامی آبادی کیلئے ہزاروں براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہونگے،

کم لاگت پروڈکشن کی بدولت پاکستانی مصنوعات عالمی منڈیوں میں زیادہ مسابقتی اوربرآمدات میں تیزرفتار اضافہ ممکن ہوگا۔مکران ریجن عملی طور پر قومی معاشی دھارے میں شامل اوربلوچستان کی ترقی براہِ راست تیز ہوگی،چین،مشرقِ وسطیٰ،افریقہ کی منڈیوں تک گوادر پورٹ سے براہ راست رسائی برآمدی سرگرمیوں کو کئی گنا بڑھا دے گی۔

برآمدات بڑھنے سے تجارتی خسارہ کم ہوگا اور ملک کے لیے زیادہ زرمبادلہ حاصل ہوگا،انہوں نے کہاکہ ایران سے ٹیکس فری اشیاء کی آمدکی بدولت مقامی سطح پراشیائے ضروریہ اورصارفین کی مصنوعات سستی دستیاب ہوں گی،سستی مارکیٹ،خوبصورت ساحلی ماحول اور بہتر انفراسٹرکچر گوادر میں سیاحت کے فروغ کی بڑی وجہ بنیں گے،ایران اور جی سی سی ممالک کے ساتھ علاقائی تجارت،سفارتی تعلقات مضبوط ہوں گے۔
ُؓٓ