|

وقتِ اشاعت :   November 23 – 2025

کوئٹہ: امیرجماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے بڑے عوامی اجتماعی مسائل ماورائے آئین وقانون غائب کیے گیے لاپتہ افراد،جائزحقوق کیلئے آوازبلندکرنے والے سیاسی قیدی،وسائل پردسترس نہ دینا،

سی پیک سیندک ریکوڈک سمیت دیگرپراجیکٹس کے ثمرات سے محرومی، چیک پوسٹیں،سول حکومت کے بجائے اسٹبلشمنٹ کی مسلط حکمرانی ہے حکمران بلوچستان کونوگو،مقبوضہ علاقہ نہ بنائیں بلکہ بلوچستان کوحقوق عوام کوعزت واحترام،روزگاروتعلیم اورمعاشی حقوق دیں۔

ان خیالات کااظہارانہوں نے مینارپاکستان میں جماعت اسلامی کے کل پاکستان تین روزہ اجتماع عام کے آخری دن لاکھوں مردوخواتین کے سامنے بلوچستان کامقدمہ پیش کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کوچیک پوسٹوں،تھانوں کے بجائے مقتدرقوتوں اسلام آباد کے حکمرانوں نے اہلیان بلوچستان پرتعلیم روزگار،تجارت بارڈرز،شاہراہیں بندکیے ہیں۔جائزحقوق مانگنے والی بہنوں کوجیل میں بندکیاہے بلوچستان میں احتجاج،جمہوری سیاسی مذاہمت پرغیراعلانیہ پابندی لگائی گئی ہیں بارڈرز،چیک پوسٹوں واسمبلی کے اندراسٹبلشمنٹ کی حکمرانی واختیارہے

جمہوری قوتوں کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی گئی ہیں معصوم عوام کوعلاج و تعلیم اورروزگارکی سہولت میسرنہیں قانونی تجارت کیلئے بارڈرزبندکیے گیے ہیں۔بلوچستان میں عوام کے بجائے اسٹبلشمنٹ واسلام کے حکمرانوں کے کاروبار وتجارت اورحکومت چل رہی ہے عوام کی جان ومال اورتجارت محفوظ نہیں۔لاتعلق بے گناہ لوگوں کوماورائے قانون وعدالت غائب کیے جاتے ہیں

انہیں رہائی کیلئے قانونی عدالتی حقوق دیے جاتے ہیں نہ ہی جرم بتائے جاتے ہیں جماعت اسلامی بلوچستان نے حقوق کے حصول ظلم وجبر لاقانونیت کے خلاف کوئٹہ سے اسلام آباد لانگ مارچ کیاحکمرانوں نے مطالبات مانتے کیلئے 6ماہ کاوقت مانگامگرتاحال اس پرعمل نہیں ہواہم دوبارہ اجتماع عام کے لاکھوں عوام کے سامنے اپنے جائز مطالبات اورحقوق کاچارٹرپیش کررہے ہیں حکمران حقوق بلوچستان لانگ مارچ کے جائز مطالبات تسلیم کریں۔