کوئٹہ : عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر اچکزئی نے بلوچستان اور خیبر پختون خواہ میں بدامنی کے بڑھتے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وقت اور حالات کے مطابق پشتون بلوچ خطے میں امن کی بحالی کیلئے سیاسی قوتوں کی یکجہتی ناگزیر ہے جس کیلئے خارجہ پالیسی پر نظرثانی اور عوام کو انکے وسائل پر حق دینا ہوگاسیاسی جماعتیں اور کارکن ریاست سے ان حالات کی بہتری کے حوالے سے پوچھنے میں حق بجانب ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوموار کو کوئٹہ پریس کلب میں پارٹی کی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں سے پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
اس موقع پر مرکزی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد سلیم خان ، صوبائی جنرل سیکرٹری مابت کاکا، عبید اللہ عابد، ثناء اللہ کاکڑ، چاندنی کاکڑسمیت دیگر بھی موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی کی ورکنگ کمیٹی کے گزشتہ روز ہونے والے اجلاس میں ملکی حالات زیر بحث آئے بلوچستان اور خیبر پشتونخواہ کے حالات قابل تشویش ہیں عومی نیشنل پارٹی دھرتی کے باسیوں کو یکجہتی کا فریضہ سرانجام دے گی خطے میں جاری بدامنی کے خلاف تمام سیاسی قوتوں کو اعتماد میں لیکر مشترکہ لائحہ عمل طے کرینگے محسن نقوی جیسے لوگ بھڑکتی آگ پر تیل ڈال رہے ہیں اور وہ مسائل کے حل اور عوام کے دکھوں کا مداوا نہیں کرسکتے پشتون دھرتی پر جوان ہونے والے افغانوں کو زبردستی بے دخل کرنے کی پالیسی درست نہیں گھروں پر چھاپے اور افغانی ہونے کی آڑ میں صوبہ سندھ اور پنجاب میں کاروبار کرنے والے پشتونوں کے خلاف کاروائی کی جارہی ہے برے سلوک کا خطرناک ردعمل آئے گا
اس وقت بے گناہ خواتین اور سیاسی کارکن جیل میں ہیں اور ان پر کوئی جرم بھی ثابت نہیں ہوسکابلوچ پشتون خطے میں صبح کا آغاز بم دھماکوں ، اغواء کاری، قتل و غارت گری اور فائرنگ سے ہوتا ہے بلوچستان اور خیبر پختون خواہ کے لوگ بنیادی سہولیات اور امن کی عدم بحالی کا رونا رو رہے ہیں
جبکہ لاہور اور ملک کے دیگر علاقوں میں حالات اسکے برعکس پر امن ہیں کیا بلوچستان اور خیبر پختونخوا پاکستان کے مقبوضہ علاقے ہیں اگر ایسا نہیں تو حکومتی رٹ یہاں کیوں نہیں نظر آتی اور لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کیلئے قائم ادارے اپنا کردار ادا نہیں کرتے لاہور اور دیگر علاقوں جیسا امن اور سہولیات یہاں کے لوگوں کا بھی حق ہے جو ان کو نہیں مل رہا بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ جو سیف سیٹی کہلاتا ہے
لیکن یہاں پر بسنے والے لوگوں کو دور جدید کے مطابق زندگی کی بنیادی سہولیات نیٹ، گیس بجلی ،پانی سمیت دیگر سہولیات دستیاب نہیں سیف سٹی کی کیا حالت ہے سب کے سامنے ہے یہاں ریڈزون کے آس پاس خندقیں کھود دی گئی ہیں بدامنی کے حالات حساس علاقے زرغون روڈ تک پہنچ چکے ہیں اور حکمران خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں انہیں عوام اور صوبے کی مشکلات اور مسائل سے کوئی سروکار نہیں ہندوستان کے ساتھ سرحدی تجارت بند نہیں ہوئی لیکن افغان بارڈر بند ہے
بدترین صورتحال کے بعد بھی ایران اور انڈیا کے ساتھ سرحدی تجارت شروع کردی جاتی ہے لیکن افغانستان کے ساتھ الگ سلوک روا رکھا جاتا ہے افغانستان کے ہر حکمران کو بدقسمتی سے بھارت کے ساتھ جوڑا گیا ناقص پالیسوں کی وجہ سے کسی سے تعلقات بہتر نہیں رہے
حکمرانوں نے ملکی معاملات میں کھبی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیاپشتون خطے کو مسلح جتھوں کے حوالے کردیا گیا ہے ہرنائی میں کول مائنز مالکان کو انتظامیہ کی جانب سے مسلح گارڈ رکھنے کو کہا گیا تو پھر سیکورٹی اہلکار کس لٰئے ہیں جو ہمارے ٹیکس سے تنخواہیں اور مراعات لیتے ہیں
یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ جو اپنی ذمہ داری پوری نہیں کررہے ۔
انہوں نے ناقص خارجہ پالیسی کی وجہ سے کسی سے تعلقات بہتر نہیں رہے ۔ امن کی بحالی کیلئے حقیقی نمائندوں سے بات چیت اور عوام کو انکے وسائل پر حق دینا ہوگا تاکہ اس بگڑتی ہوئی صورتحال پر قابو پایا جاسکے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ سمیت دیگر حوالوں سے سیاسی جماعتوں کے ساتھ دھوکہ کیا گیا جس کے بعد اسمبلی نے قرار داد منظور کی اور وزیر اعلیٰ نے مائنز اینڈ منرل ایکٹ پر عملدرآمد روکا اور حکومت کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو آگاہ کیاکہ حکومت مائنز اینڈ منرل ایکٹ کے حوالے اس کا ازسرنو جائزہ لے رہی ہے۔