|

وقتِ اشاعت :   November 30 – 2025

گوادر:  آر سی ڈی کونسل گوادر میں شہر کی ہونہار اور قابلِ فخر بیٹی ڈاکٹر صدگنج مبارک کے انگریزی ناولThe Brave کی رونمائی کی گئی، جس میں ادبی، سماجی، سیاسی اور تعلیمی حلقوں کی نمایاں شخصیات، نوجوان طلبا و طالبات اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

گوادر سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان خاتون کا انگریزی زبان میں ادبی تخلیق پیش کرنا اہلِ گوادر کے لیے نہ صرف باعثِ فخر ہے بلکہ خواتین کی علمی و فکری پیش رفت کا روشن ثبوت بھی ہے۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اور صدر نیشنل پارٹی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ تھے

جبکہ ایم پی اے گوادر مولانا ہدایت الرحمٰن، سابق ایم پی اے میر حمل کلمتی، ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمٰن خان، سماجی رہنما میر اشرف حسین، ہیڈ آف کیمپس جی ڈی اے پاک چائنہ فرینڈشپ انڈس ہاسپٹل ڈاکٹر عفان فائق زادہ، ایجوکیشن افسر وہاب مجید، ماہر تعلیم خدا بخش ہاشم اور صدر آر سی ڈی کونسل عبدالغنی نوازش سمیت متعدد معزز مہمانوں نے شرکت کی۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کتاب کے مرکزی خیال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ Th Brave ایک ایسا ادبی شاہکار ہے جس کا کردار دشت کی مٹی اور گوادر کی ریت سے سفر کرتے ہوئے پدی زر کی لہروں تک پہنچتا ہے اور مقصدیت، حوصلے اور جدوجہد کا پیغام سامنے لاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر کے ادبی منظرنامے میں اس ناول کا شامل ہونا ایک غیرمعمولی پیش رفت ہے اور یہ کامیابی نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگی۔

انہوں نے گرلز ایجوکیشن کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم اور تجارت ترقی یافتہ قوموں کی بنیاد ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ مزید بچیاں ڈاکٹر صدگنج کی طرح آگے آئیں اور فکری سطح پر مضبوط معاشرہ تشکیل دیں۔ اسی موقع پر انہوں نے آر سی ڈی کونسل لائبریری کے لیے دس ملین روپے فراہم کرنے کا اعلان کیا

اور ظہور شاہ ہاشمی کی صد سالہ تقریبات کے انعقاد کو بھی خوش آئند قرار دیا۔ مولانا ہدایت الرحمٰن نے کہا کہ اسلام خواتین کی تعلیم کو اہمیت دیتا ہے، کتاب دوستی اور مطالعہ انسان اور معاشرے کو مہذب بناتے ہیں اور صاحبِ کتاب شخص ہمیشہ قدر اور احترام کا مستحق رہتا ہے۔

میر حمل کلمتی نے کہا کہ ڈاکٹر صدگنج مبارک جیسی باہمت اور باصلاحیت بچیاں روشن مستقبل کی علامت ہیں اور ان کا یہ کارنامہ علاقے کی دیگر بچیوں کے لیے رول ماڈل ہے۔

تقریب سے ڈاکٹر صدگنج مبارک سمیت وہاب مجید، میر اشرف حسین، خدا بخش ہاشم، ڈاکٹر عفان فائق زادہ اور عبدالغنی نوازش نے بھی اظہارِ خیال کیا اور کتاب کو گوادر کی علمی فضاء کے لیے سنگِ میل قرار دیتے ہوئے مصنفہ اور ان کے خاندان کو مبارکباد پیش کی۔

مقررین نے کہا کہ ایک نوجوان لڑکی کا کسی پسماندہ خطے سے انگریزی ناول تخلیق کرنا انتہائی قابلِ ستائش قدم ہے اور The Brave آنے والی نسلوں کو سوچنے، پڑھنے اور آگے بڑھنے کا حوصلہ بخشے گی۔ تقریب کا اسٹیج واجہ محمد حیاتان نے خوش اسلوبی سے کنڈکٹ کیا جبکہ شرکاء نے ناول کو گوادر کی ادبی تاریخ میں ایک خوشگوار اور اہم اضافہ قرار دیا۔