عرب اتحاد کی جانب سے یمن میں کیے گئے فضائی حملے میں متحدہ عرب امارات سے آنے والے ہتھیاروں اور فوجی گاڑیوں کو نشانہ بنانے کے بعد سعودی عرب نے مطالبہ کیا ہے کہ یو اے ای 24 گھنٹے میں یمن سے اپنی فوج کو واپس بُلا لے۔ پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں کشیدگی ختم کرانے کے لیے متحرک ہو گیا ہے اور اس سلسلے میں وزیراعظم شہبازشریف نے رحیم یار خان میں یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کی جس دوران یمن کی صورتحال پر تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا۔
عرب اتحاد کے ترجمان کے مطابق متحدہ عرب امارات سے ہتھیاروں کی کھیپ حضرموت پہنچائی جاری تھی ۔ سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیاہے کہ یواےای یمنی حکومت کی درخواست پر عمل کرتے ہوئے 24 گھنٹےمیں یمن سے فوج واپس بلائے، برادرملک کے اقدامات پر مایوسی ہوئی۔
سعودی عرب نے یمن میں جاری کشیدگی سعودی قومی سلامتی کیلئےخطرہ قرار دئ اور جیا جی قومی سلامتی سعودی عرب کی ریڈ لائن ہے، کسی بھی خطرے کا فوری اور موثر ردعمل دیا جائے گا۔ یو اے ای کے اقدامات یمن میں قیام امن کی کوششوں کی منافی ہیں ۔ یمن نے یو اے ای سے مشترکہ دفاعی معاہدہ بھی منسوخ کر دیا ۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے عرب اتحاد نےاسلحہ اسمگل کرنے کی کوشش کرنے والے دو بحری جہازوں کو یمن کی مکلا بندرگاہ پر نشانہ بنایا۔ عرب اتحاد کے ترجمان بریگیڈر جنرل ترکی المالکی کے مطابق حملہ یمنی صدارتی کونسل کی درخواست پر عالمی قوانین کومدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا، بحری جہازوں سے بغیر اجازت ہتھیار اور بکتربند گاڑیاں اتاری جارہی تھیں۔
یمنی صدارتی کونسل کے سربراہ شاد محمد العلیمی کے مطابق بحری جہاز یو اے ای کی فجیرہ بندرگاہ سے روانہ ہوگئی تھیں، چیئرمین یمنی صدارتی کونسل نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ دفاعی معاہدہ منسوخ کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات سے یمنی سرزمین سے اپنی افواج نکالنے کا مطالبہ کیا۔
وزیراعظم شہبازشریف متحرک
پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں کشیدگی ختم کرانے کے لیے متحرک ہو گیاہے اور اس سلسلے میں وزیراعظم شہبازشریف نے رحیم یار خان میں یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کی جس دوران یمن کی صورتحال پر تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا۔
وزیراعظم شہبازشریف نے وفد کے ساتھ یو اے ای کے صدر سے ملاقات کی ، ذرائع کے مطابق شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر پاکستان کا مؤقف دہرایا اور یمن کی صورتحال پر تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا۔ پاکستان نے سعودی عرب کے بعد یو اے ای کو بھی اعتماد میں لے لیا۔
ذرائع کے مطابق سعودی وزیر خارجہ سے رابطے پر بھی یو اے ای صدر کو اعتماد میں لیا گیا، پاکستان نے معاملہ طاقت کے بجائے افہام و تفہیم سے حل کرنے کا مشورہ دیا، وزیراعظم شہباز شریف نے دو برادر ممالک میں کشیدگی ختم کرانے کے لیے کردار ادا کرنے کی پیشکش کی، وزیراعظم کی قیادت میں وفد یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کے بعد رحیم یار خان سے واپس روانہ ہو گیا۔
متحدہ عرب امارات
یو اے ای نے سعودی عرب اور یمنی حکومت کے الزامات کو مسترد کردیا ، وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا سعودی عرب کے بیان پر مایوسی ہوئی ، فضائی حملے پر بھی حیران ہیں ، کھیپ میں کوئی ہتھیار موجود نہیں تھے ۔
ترجمان کا کہناتھا کہ سعودی عرب کی خودمختاری اور قومی سلامتی کے لیے مکمل احترام کرتے ہیں ، مُکلا کی کھیپ میں کوئی ہتھیار موجود نہیں تھے، موجودہ صورتحال کو ذمہ داری کے ساتھ سنبھالنا چاہیے تاکہ کشیدگی نہ بڑھے، فریقین کو مشترکہ مفادات کا تحفظ اور یمن کے مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرنا ہے ۔۔
یو اے ای وزارت خارجہ کا کہناتھا کہ فریقین مشترکہ مفادات کا تحفظ اور یمن کے مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرنا ہے، سعودی عرب کی خودمختاری اور قومی سلامتی کے لیے مکمل احترام کرتے ہیں۔