|

وقتِ اشاعت :   January 3 – 2026

کوئٹہ: نیشنل پارٹی بلوچستان کے صوبائی صدر چیر مین اسلم بلوچ نے حکومت کی جانب سے انتظامی افسران کو جسٹس آف پیس کے اختیارات دینے کو نہ صرف عدالتی نظام میں مداخلت عدلیہ کے اختیارات کو محدود کرنے بلکہ مچھلی سطع پر عدالتی نظام کو کھوکھلا کرنے ْکی سازش ہے

دوسری جانب سیاسی کارکنوں کو زیرعتاب لانے کے لیئے یہ ہتھکنڈا استعمال کرکے سیاسی کارکنوں کو حراساں کی جاہیں اور جسٹس آف پیس کے نام پرسیاسی کارکنوں کو سزا دلاکر ان کے آواز کو دبائیں ، اسلم بلوچ نے واضع کیا کہ عدلیہ اور انتظامیہ کو الگ کرنے کیلیئے سیاسی کارکنوں نے طویل جدوجہد کی اب مسلط کردہ جعلی اسمبلیوں کے ذریعے بیک جنبش قلم انتظامیہ کو عدالتی اختیارات دیکر عوام کی آواز کو دبانے کے لیئے منظم سازش کی گئی ہے جو قابل قبول نہیں ہے ،

اسلم بلوچ نے کہا ہے کہ تمام تر غیر جمہوری اور ماورائے آئین اقدامات کے تجربات بلوچستان میں کیا جارہا ہے جو کہ ایک المیہ ہے فارم 47کے پیداوار اسمبلی کو بالکل یہ حق نہیں کہ وہ اس قسم کے اقدامات کرکے بحرانی کیفیت پیدا کرے اس لیئے لازم ہے کہ یہ نوٹیفکیشن واپس لیا جائے۔