|

وقتِ اشاعت :   January 3 – 2026

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں ضلعی انتظامیہ کو نوٹیفکیشن کے ذریعے آرٹیکل22اے ا ور 22بی کے اختیارات تفویض کرنے کے عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے

کہ جسٹس آف پیس کے اختیار ات انتظامیہ کودینا عدلیہ پر حملہ ہے ماضی میں بھی جوڈیشل مجسٹریٹ کے اختیارات تحصیلداروں کو دینے کے اقدام کو بلوچستان ہائی کورٹ کالعدم قرار دے چکی ہے

بیان میں کہا گیا کہ موجودہ فارم 47کے حکمران آئے روز سابقہ ادوار کی طرح نت نئے تجربے کر کے حالات کو مزید ابتر کر رہے ہیں

بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس کو دو متوازی حصوں میں تقسیم کرنے سے انتشار اور آئینی تضاد جنم لے گا اور حالیہ نوٹیفکیشن کے تحت کئے دیئے جانے والے اختیارات کو حکمران اپنے ذاتی مفاد اور مخالفین کو زیر کرنے کیلئے استعمال کر سکیں گے جو کسی بھی طرح آئین کی روح کے مطابق نہیں بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان کو تجربہ گاہ کی بجائے بلوچ سوال کے حل کیلئے اقدمات کئے جائیں سیاسی انجینئرنگ ، نت نئے تجربات سے پہلے ہی بلوچ نوجوانوں بہت آگے نکل چکے ہیں

جہاں سے ان کی واپسی بہت مشکل ہے بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ دور حکومت میں ڈھائے جانے والے مظالم سے بلوچستانی عوام میں نفرتیں جنم لے رہی ہیں جن کو ختم کرنا ممکن نہ ہو گا بیان میں کہا گیا ہے کہ فوری طور پر نوٹیفکیشن کو واپس لیتے ہوئے آئین کے روح کے مطابق بلوچستانی عوام کو انسانی حقوق کی فراہمی ، آزاد انہ نقل و حرکت ، روزگار کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے