|

وقتِ اشاعت :   January 8 – 2026

کوئٹہ: صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں شدید سردی کی لہر کے دوران گیس پریشر میں غیر معمولی کمی اور طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے ،

سرد موسم میں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث گھریلو صارفین، دکانداروں اورہاسٹلز میں رہنے والے طلباء کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ عوامی حلقوں کی جانب سے متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ چند روز سے کوئٹہ اور گردونواح میں درجہ حرارت نقطہ انجمادسے نیچے گر گیا ہے

ایسے میں گیس پریشر میں مسلسل کمی کے باعث بیشتر علاقوں میں صبح و شام کے اوقات میں چولہے جلانا مشکل ہو گیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ گھروں میں کھانا پکانا، بچوں اور بزرگوں کے لیے گرم پانی کا انتظام کرنا ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے جبکہ مجبورا مہنگے ایل پی جی سلنڈر اور لکڑی کا سہارا لیا جا رہا ہے۔دوسری جانب بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

کئی علاقوں میں گھنٹوں بجلی غائب رہنے سے گھریلو ہیٹر، الیکٹرک گیجزر اور دیگر برقی آلات بے کار ہو کر رہ گئے ہیں۔ کاروباری طبقے کا کہنا ہے کہ بار بار بجلی بند ہونے سے کاروبار شدید متاثر ہو رہا ہے اور مالی نقصان میں اضافہ ہو رہا ہے۔شہریوں نے شکایت کی ہے کہ گیس اور بجلی کی بندش کے باوجود بلوں میں کوئی کمی نہیں کی جا رہی جس پر عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

سماجی حلقوں اور صارفین نے حکومت بلوچستان اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ سردی کے اس شدید موسم میں گیس پریشر بحال کیا جائے، لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم کیا جائے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔