ایران میں ملک گیر مظاہروں پر اپنے تازہ ردعمل میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی حکومت ’بڑی مصیبت‘ میں ہے، اگر اُنھوں نے اپنے شہریوں کو مارا تو ہم کارروائی کریں گے۔
جمعے کو وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران میں مظاہرین ایسے شہروں پر قبضہ کر رہے ہیں، جن کے بارے میں کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔
صدر کا مزید کہنا تھا کہ وہ ایران کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
امریکی صدر نے ایک بار پھر ایرانی حکومت کو خبردار کیا کہ ’اگر اُنھوں نے ماضی کی طرح اپنے لوگوں کا مارنا شروع کیا تو ہم کارروائی کریں گے۔ ہم اُنھیں ایسی شدت سے ماریں گے کہ اُنھیں بہت تکلیف ہو گی۔ اس کا مطلب فوجی موجودگی نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم انہیں پوری شدت سے ماریں گے۔ اس لیے ہم نہیں چاہتے کہ ایسا ہو۔‘
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ اپنے مفادات کے لیے دنیا کے کسی بھی ملک میں کارروائی کا حق رکھتا ہے۔
دو انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق 28 دسمبر کو احتجاج شروع ہونے کے بعد سے ایران میں اب تک کم از کم 48 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔ جبکہ ایرانی حکام نے اب تک سکیورٹی فورسز کے چھ اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
مظاہرین ملک میں کرنسی کی قدر میں تیزی سے کم اور مہنگائی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، اس دوران کئی شہروں میں ملک کے رہبر اعلیٰ کے خلاف بھی نعرے بازی کی گئی ہے۔
ملک کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے مظاہرین پر سخت تنقید کرتے ہوئے انھیں ‘چند شرپسندوں کا گروہ’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ‘خوش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔’