امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ گرین لینڈ کو اس لیے اپنی ملکیت میں لینا چاہتا ہے، تاکہ روس اور چین اس پر قبضہ نہ کر سکیں۔
بی بی سی کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے جمعے کو صحافیوں کو بتایا کہ ’ممالک کو ملکیت حاصل کرنی ہوتی ہے اور آپ ملکیت کا دفاع کرتے ہیں، آپ لیز کا دفاع نہیں کرتے۔ لہذا ہمیں گرین لینڈ کا دفاع کرنا پڑے گا۔‘
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ہم اسے دونوں صورتوں میں حاصل کر کے رہیں گے، ’چاہے اس کے لیے آسان راستہ ہو یا مشکل راستہ اختیار کرنا پڑے۔‘
اس سے قبل وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا تھا کہ انتظامیہ نیٹو کے رُکن ملک ڈنمارک کے نیم خود مختار علاقے کو خریدنے پر غور کر رہی ہے۔ لیکن وہ اسے طاقت کے ذریعے ضم کرنے کے آپشن کو بھی مسترد نہیں کریں گے۔
ڈنمارک اور گرین لینڈ کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ فروخت کے لیے نہیں ہے۔ ڈنمارک نے کہا ہے کہ فوجی کارروائی سے بحر اوقیانوس کے دفاعی اتحاد کا خاتمہ ہو جائے گا۔
سب سے کم آبادی والا علاقہ ہونے کے باوجود، شمالی امریکہ اور قطب شمالی کے درمیان گرین لینڈ کا محل وقوع اسے میزائل حملوں کی صورت میں ابتدائی انتباہی نظام اور خطے میں جہازوں کی نگرانی کے لیے اچھی جگہ بناتا ہے۔
امریکی صدر نے بارہا کہا ہے کہ گرین لینڈ امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے اہم ہے، بغیر ثبوت کے یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ یہ ’ہر جگہ روسی اور چینی جہازوں سے ڈھکا ہوا ہے۔‘
امریکہ کے 100 سے زیادہ فوجی گرین لینڈ کے شمال مغربی علاقے میں پٹوفک اڈے پر مستقل طور پر تعینات ہیں۔ یہ اڈہ امریکہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم کیا تھا۔
ڈنمارک کے ساتھ موجودہ معاہدوں کے تحت، امریکہ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ گرین لینڈ میں جتنے چاہے فوجی بھیج سکتا ہے۔
لیکن واشنگٹن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’لیز کا معاہدہ اچھا نہیں ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ممالک نو سال یا 100 سال کے سودے نہیں کر سکتے، ہمارے پاس ملکیت ہونا ضروری ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’میں چین کے لوگوں سے محبت کرنا ہوں، میں روس کے لوگوں سے بھی محبت کرتا ہوں، لیکن میں انھیں گرین لینڈ میں پڑوسی کے طور پر نہیں چاہتا، ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔‘
امریکی صدر کے بقول اب نیٹو کو بھی یہ بات سمجھ آ گئی ہے۔