کوئٹہ: سینئر سیاستدان سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے سرکاری ملازمین کے خلاف جاری کریک ڈائون، گرفتاریوں، اسٹنٹ پروفیسرز و لیکچرز کی معطلی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ملازمین کے خلاف طاقت کے استعمال میں غیرنمائندہ حکومت اور اپنے پارلیمانی کوٹہ کے انتظار میں خاموش تماشائی بنی اپوزیشن جماعتیں برابر شریک ہیں۔
ایک مذمتی بیان میں نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ سرکاری ملازمین کی اکثریت کا تعلق مڈل کلاس سے ہے ان کے خلاف کاروائیاں قابل مذمت ہیں، مہنگائی کے اس دور میں جہاں پہلے ہی بلوچستان میں روزگار نہ ہونے کے برابر ہے ایسے میں سرکاری ملازمین سے مذاکرات کرکے ان کے مسائل کا حل تلاش کرنے کی بجائے طاقت کا استعمال کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ہوٹل کی بجائے اگر عوامی طاقت سے بنتی تو ملازمین کے ساتھ مذاکرات کرکے ان کے مسائل حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرتی۔ جعلی اور نام نہاد الیکشن کے ذریعے مسلط حکومت عوام کے مسائل سے بے خبر اور طاقت کے ذریعے مسائل حل کرنا چاہتی ہے،
بعض سیاسی جماعتیں مصلحت کے تحت نام نہاد اپوزیشن میں کوئی کردار ادا نہیں کررہیں یقینا ان تمام معاملات کا حساب اور پوچھ گچھ ایک دن عوام اپنی طاقت کے ذریعے ان سے کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کے خلاف ہونے والی کارروائیوں میں جبری نظام کی پیداوار حکومت اور اپنے پارلیمانی کوٹہ کے انتظار میں خاموش تماشائی بنی اپوزیشن جماعتیں برابر کی شریک ہیں۔