ترکی کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایسے آثار ہیں کہ اسرائیل اب بھی ایران پر حملہ کرنے کا موقع تلاش کر رہا ہے۔
ترک وزیرِ خارجہ نے خبردار کیا کہ اس طرح کا اقدام خطے کو مزید عدم استحکام سے دوچار کر دے گا۔
جمعے کو ایک انٹرویو میں ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’مجھے امید ہے کہ وہ [اسرائیلی حکام] ایک مختلف راستہ اختیار کریں گے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل ایران پر حملہ کرنے کے لیے موقع کی تلاش میں ہے۔‘
قبل ازیں ترک وزیر خارجہ نے ایران میں پیش رفت کے بارے میں انقرہ کے نقطہ نظر کے بارے میں کہا تھا کہ ترکی علاقائی استحکام اور سلامتی کا خیال رکھتا ہے اور ایران میں فوجی مداخلت کا مخالف ہے۔
ایران میں ملک گیر مظاہروں کے بارے میں اُن کا کہنا تھا کہ ’ایران میں جو کچھ ہوتا ہے اس کا اثر ہم پر پڑتا ہے۔ اسی لیے ہم اس معاملے کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔‘
ترکی کے صدر رجب طیب اردغان نے بھی گذشتہ پیر کو کہا تھا: ’ہمارے پڑوسی ایران کو اسرائیلی حملے کے بعد اب سماجی بدامنی کے ایک نئے امتحان کا سامنا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہمارے ایرانی بھائی اس دور سے گزریں گے۔‘
ترک وزیر خارجہ نے اس سے پہلے کہا تھا کہ ’بڑے بین الاقوامی سٹیک ہولڈرز‘ کے ساتھ ایران کے مسائل کو حل کرنا ترکی کے مفاد میں ہو گا۔
دوسری جانب کئی ایئر لائنز نے اعلان کیا ہے کہ اُنھوں نے سنیچر کو مشرق وسطیٰ کے ممالک کے لیے پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔ ایئر فرانس، لفتھانسا، ایئر کینیڈا اور کے ایل ایم نیدرلینڈز کا کہنا ہے کہ وہ کم از کم اتوار تک اسرائیل، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے لیے پروازیں آپریٹ نہیں کریں گے۔
بی بی سی فارسی نے میڈیا رپورٹس کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ پروازیں ایران اور امریکہ کے درمیان فوجی تصادم کے امکان کے درمیان منسوخ کی گئی ہیں۔
اسرائیلی ٹیلی ویژن چینل آئی 24 نیوز نے بھی ’ایئرپورٹ کی ویب سائٹس پر شائع ہونے والی پرواز کی معلومات‘ پر مبنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ رائل ڈچ ایئر لائنز اور سوئس نے بھی ایسا ہی فیصلہ کیا ہے۔