ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکہ کے ساتھ برابری اور انصاف کی بنیاد پر مذاکرات کی منظوری دے دی ہے۔
ایرانی صدر کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ خطے کے دوست ممالک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کا جواب دینے کی درخواست کی تھی۔
ان کا کہنا ہے کہ ان درخواستوں کے جواب میں انھوں نے اپنے وزیرِ خارجہ کو ہدایت کی ہے کہ اگر خطرات سے پاک اور غیر معقول توقعات سے دور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوتا ہے تو وہ انصاف اور برابری کی بنیاد پر بات چیت کے لیے تیاری کریں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نے ایک نامعلوم سرکاری ذریعے کے حوالے سے خبر دی تھی کہ ’صدر پزشکیان نے ایران کے جوہری پروگرام پر امریکہ کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔‘
اے ایف کے مطابق، ایران کے سرکاری اخبار ’ایران‘ اور اصلاح پسند روزنامہ شرق نے بھی شائع کیا تھا۔
دوسری جانب سوموار کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ بڑے امریکی جہاز ایران کی جانب روانہ ہیں۔ ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ایران سے مذاکرات بھی چل رہے ہیں، دیکھیے کیا ہوتا ہے۔
ٹرمپ نے خبردار بھی کیا کہ اگر ایران کے ساتھ بات چیت ناکام ہو گئی تو ’کچھ برا‘ ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز نے خبر دی ہے کہ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ترکی کے شہر استنبول میں ملاقات ہو گی۔