|

وقتِ اشاعت :   February 11 – 2026

 

پنجگور:  یونیورسٹی آف مکران نے کمیونٹی سے مضبوط روابط قائم کرنے اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے اپنے وژن کے تحت اردو اے آئی کے ساتھ مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کر دیے۔ اس معاہدے کا مقصد پنجگور کے نوجوانوں اور مقامی کمیونٹی کو مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے شعبے میں جدید تربیت اور آگاہی فراہم کرنا ہے۔

اس تقریب میں وائس چانسلر یونیورسٹی آف مکران پروفیسر ڈاکٹر میر سادات بلوچ، رجسٹرار آفتاب اسلم بلوچ، ڈائریکٹر فنانس ولید بلوچ، ڈائریکٹر آئی ٹی سیف اللہ بلوچ، اسسٹنٹ کنٹرولر عطا مہر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر اکیڈمکس بیبگر بلوچ اور ایڈمن جنرل شاہ مراد موجود تھے، جبکہ اردو اے آئی کی جانب سے باقر سید بلوچ (فوکل پرسن مکران ریجن) اور ممبر جیئند ندیم نے شرکت کی۔

اس معاہدے کے تحت اردو اے آئی جامعہ مکران میں مصنوعی ذہانت سے متعلق تربیتی ورکشاپس، سیشنز اور آگاہی پروگرامز کا انعقاد کرے گی تاکہ پنجگور سے تعلق رکھنے والے نوجوان جدید ڈیجیٹل مہارتوں سے مستفید ہو سکیں اور عالمی سطح پر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکیں۔ پہلے مرحلے میں منتخب تیس (30) نوجوانوں کو عملی اے آئی تربیتی پروگرام فراہم کیا جائے گا۔

اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر میر سادات بلوچ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی آف مکران کا وژن تعلیم کو کلاس رومز تک محدود رکھنے کے بجائے کمیونٹی کی ترقی سے جوڑنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت موجودہ دور کی ایک اہم ترین ٹیکنالوجی ہے اور اس معاہدے کے ذریعے نوجوانوں کو تحقیق اور ڈیجیٹل صلاحیتوں میں بہتری کے مواقع میسر آئیں گے۔ انہوں نے اردو اے آئی کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ شراکت نوجوانوں کو جدید مہارتوں سے آراستہ کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس مفاہمتی یادداشت کا بنیادی مقصد اے آئی کے سیکھنے اور سمجھنے کے مواقع فراہم کرنا ہے تاکہ کوئی بھی اس جدید ٹیکنالوجی کے فوائد سے محروم نہ رہے۔ پہلے مرحلے میں شروع ہونے والا تین روزہ تربیتی پروگرام نوجوانوں کے لیے عملی مہارتوں کے حصول کی بنیاد ثابت ہوگا۔

وائس چانسلر یونیورسٹی آف مکران نے آخر میں اس عزم کا اظہار کیا کہ کمیونٹی کے تمام اسٹیک ہولڈرز کی باہمی تعاون کے ذریعے نوجوان نسل کو ڈیجیٹل دور کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل بنایا جائے گا اور تعلیمی و سماجی ترقی کو فروغ دیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *