کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں کہا گیا ہے کہ گوادر بارے اسلام آباد اے پی سی کی قراردادوں پر فوری عملدرآمد کیا جائے گوادر پورٹ کے اختیار ات بلوچستان کو دیئے جائیں میگا پروجیکٹس کے ثمرات بلوچستان کیلئے ہوں ‘ ہزاروں سالوں پر محیط تاریخ و تمدن کو مسخ ہونے سے بچانے کیلئے قانون سازی کی جائے پارٹی کی جانب سے 12جولائی کو گوادر سے متعلق سیمینار اسلام آباد میں منعقد کیا جائیگا جس کی صدارت پارٹی کے مرکزی صدر سردار اختر جان مینگل کریں گے جس میں ملک بھر سے دانشور ‘ کالم نگار ‘ وکلاء برادری ‘ ادیب ‘ مفکر شرکت کریں گے اس سے قبل سے گوادر کے بلوچ کو درپیش مسائل ‘ خدشات و تحفظات سے متعلق آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی گئی ہے جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی اس میں متفقہ قراردادیں بھی منظور کی گئی تھیں جس میں گوادر کے بلوچوں کو اقلیت میں تبدیل ہونے سے بچانے کیلئے قانون سازی ‘ گوادر پورٹ کا تمام اختیار بلوچستان کو دینے ‘ پورٹ کی ملازمتوں میں مقامی اور بلوچستان کو لوگوں کو ترجیح دینے ‘ انفراسٹرکچر کی ترقی کیلئے فوری اقدامات کرنے ‘ گوادر میں پانی کا مسئلہ فوری طور پر حل کرنے ‘ جدید ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹر کے قیام سمیت ماہی گیری کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کیلئے جی ٹی پورٹ کا قیام اور متبادل روزگار دینے کی قرار دادیں منظور کی گئیں پاس کی گئی قراردادوں پر فوری طور پر عملدرآمد کرنے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بلوچستان کے ساتھ ہونے والے ماضی کی ناانصافیوں کے ازالے کے ساتھ ساتھ اے پی سی میں پاس کی گئی قراردادوں پر قانون سازی کیلئے مشترکہ جدوجہد کریں تاکہ بلوچستان کے عوام بالخصوص گوادر کے بلوچوں کو یقین ہو کہ ترقی و خوشحالی کی جو باتیں کی جا رہی ہیں اس سے ثمرات سے گوادر کے بلوچ ‘ ماہی گیر اور بلوچستان کے عوام مستفید ہوں گے ۔