وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبے میں لیویز فورس کی پولیس میں منتقلی کے بعد فورس کی استعداد کار اور کارکردگی سے متعلق جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں محکمہ داخلہ بلوچستان کے حکام نے لیویز سے پولیس میں منتقلی کے بعد پیش رفت اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی۔
اجلاس میں پولیس کو دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے فوری اور وسیع المدتی منصوبوں کی منظوری دی گئی جبکہ صوبے بھر میں 46 نئے سب ڈویژنل پولیس افسران کی تعیناتی کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ڈویژنل اور ضلعی سطح پر نئے پولیس انتظامی ڈھانچے کی فوری تشکیل اور درکار ضروریات فراہم کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کی استعداد کار میں اضافے کے لیے تمام درکار وسائل فراہم کیے جائیں گے۔
وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان پولیس کو معمول کے معاشرتی جرائم سے نمٹنے کے ساتھ دہشت گردی جیسے سنگین چیلنجز کا بھی سامنا ہے، اس لیے تربیت اور ٹیکنالوجی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ لیویز فورس کے انضمام کے بعد عوامی سہولیات اور امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے پولیس کی انتظامی حدود میں بہتری کے مؤثر اقدامات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ تمام اضلاع میں پولیس کی کارکردگی کی باقاعدہ مانیٹرنگ کا مؤثر نظام وضع کیا جائے گا جبکہ قانون کی بالادستی اور میرٹ پر مبنی نظام کے قیام سے عوام کا اعتماد مزید مستحکم ہوگا۔
اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات، آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر خان سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
Leave a Reply