|

وقتِ اشاعت :   February 23 – 2026

کوئٹہ: عورت فاؤنڈیشن نے یو این ویمن اور جرمنی کے سفارت خانے اسلام آباد کے تعاون سے جینڈر پیریٹی پراجیکٹ کے تحت پولیس اہلکاروں کے لیے صنفی بنیاد پر تشدد (GBV) کے کیسز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے موضوع پر ایک روزہ خصوصی تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ یہ تربیت شہید حامد شکیل ہال، فیاض سمبل پولیس لائنز، کوئٹہ میں منعقد ہوئی۔

اس ورکشاپ کا بنیادی مقصد پولیس افسران کی فہم، مہارت اور حساسیت میں اضافہ کرنا تھا تاکہ وہ خواتین اور بچیوں سے متعلق تشدد کے کیسز کو زیادہ ذمہ داری، ہمدردی اور پیشہ ورانہ انداز میں ڈیل کرسکیں۔ ورکشاپ میں مختلف ماہرین نے اہم سیشنز کی قیادت کی۔
فوزیہ شاہین (سابق چیئرپرسن BCSW) نے صنف سے متعلق بنیادی نظریات، سماجی رویّوں، دقیانوسی تصورات اور GBV کیسز کے اثرات پر تفصیلی گفتگو کی۔
فاطمہ جہانزیب (ایڈووکیٹ اور لیگل ایکسپرٹ، عورت فاؤنڈیشن کوئٹہ) نے جینڈر حساس تفتیشی طریقہ کار، ریفرل سسٹم، معاونتی خدمات اور متاثرہ خواتین و بچیوں کے لیے قانونی سہولیات پر روشنی ڈالی۔
یاسمین مغل، پراجیکٹ کوآرڈینیٹر، نے جینڈر پیریٹی پراجیکٹ کا تفصیلی تعارف اور مقاصد بیان کئے اور عورت فاؤنڈیشن کا مختصر تعارف بتایا۔
علاؤالدین خلجی، ریزیڈنٹ ڈائریکٹر عورت فاؤنڈیشن، نے ورکشاپ میں بھرپور شرکت پر پولیس ڈیپارٹمنٹ کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی جی جینڈر اسرار احمد عمرانی نے اس موضوع کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے نہ صرف تعاون کیا بلکہ اس بات پر زور دیا کہ پولیس رپورٹنگ افسران کو GBV سے متعلق جامع تربیت فراہم کرنا انتہائی ضروری ہے۔
تقریب کے اختتام پر یو این ویمن کے نمائندے خلیل احمد نے ادارے کی سرگرمیوں، جاری منصوبوں اور بلوچستان میں جینڈر پیریٹی پراجیکٹ کی اہمیت پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ صوبے میں خواتین اور لڑکیوں کے تحفظ کے نظام کو مؤثر بنانے کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط ادارہ جاتی میکنزم قائم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق پولیس اور عدلیہ میں خواتین کی شمولیت بڑھانا، جینڈر ریسپانس یونٹس مضبوط کرنا، کمیونٹی رضاکاروں کی تربیت، اور خواتین کے لیے محفوظ جگہوں کی فراہمی اس منصوبے کے بنیادی ستون ہیں۔

آخر میں اے آئی جی جینڈر اسرار احمد عمرانی نے تربیتی ورکشاپ کے شرکاء میں سرٹیفکیٹ تقسیم کیے۔ شرکاء اور مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد کے خاتمے، انصاف کی فراہمی، اور ایک محفوظ و مساوی معاشرے کے قیام کے لیے ادارہ جاتی سطح پر مشترکہ کوششوں اور صنفی حساسیت کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *