|

وقتِ اشاعت :   February 27 – 2026

کوئٹہ:چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے آئندہ سماعت تک مائنز اینڈ منرلز ایکٹ پر عملدرآمد کو روک کر بلوچستان حکومت سے جواب طلب کرلیا۔ جمعرا ت کے روز بلوچستان ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹرمحمد اقبال کاکڑ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے جمعرات کے روز مائنزا ینڈ منرلز ایکٹ کیخلاف دائر درخواستوں کی، سماعت کی دوران سماعت درخواست گزار سینئر سیاستدان وسابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی اپنے وکلا محمد ریاض احمد ایڈووکیٹ، سید نذیر آغا ایڈووکیٹ بیرسٹر محمد اقبال کاکڑ و دیگر کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے دوران سماعت حکومت کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل عدنان بشارت پیش ہوئے

 

، چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے ایڈووکیٹ جنرل کی جانب سے بلوچستان حکومت کا جواب جمع نہ کرانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ ہفتے ہونے والی سماعت پر جواب جمع کرانے کے احکامات دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت تک ایکٹ پر عملدرآمد روک دیا ہے، بیرسٹر اقبال کاکڑ نے مزید کہا کہ کئی ماہ گزرنے کے باوجود حکومت عدالت میں اپنا جواب پیش نہیں کررہی ہے جس سے حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔سینئر سیاست دان وسابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اسمبلی سے منظور ہونے والے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کیخلاف ہمارے پاس عدالت اور عوام کا فورم ہے، ہم عدالت میں موجود ہیں، انہوں نے کہاکہ دو تین ماہ قبل یہ فیصلہ ہوا مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کا ازسر نو جائزہ لے کر صوبے کے مفادات کو ترجیحی دیتے ہوئے قانون سازی کی جائیگی تاہم اس پر سیاسی جماعتوں میں مکمل خاموشی ہے اس کے برعکس کہ میں اور میرے ساتھی ان پارٹی کی قیادت کے پاس گئے ان کو خطو ط لکھے۔ انہوں نے کہاکہ آج بلوچستان ہائیکورٹ نے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے تحت آئندہ سماعت تک تمام الاٹمنٹس پر پابندی عائد کی ہے جو ہماری ایک بڑی کامیابی ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *