|

وقتِ اشاعت :   3 hours پہلے

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا خصوصی اجلاس، گورنر بلوچستان، اسپیکر صوبائی اسمبلی سمیت اتحادی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز کی خصوصی شرکت، کفایت شعاری پیکج کا اعلان، مہم کا آغاز چیف منسٹر سیکرٹریٹ سے کردیا گیا ،8 سو کے لگ بھگ غیر ضروری آسامیاں تحلیل کردی گئیں

 

کوئٹہ:وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت کفایت شعاری سے متعلق صوبائی کابینہ کا ایک خصوصی اجلاس بدھ کے روز یہاں منعقد ہوا جس میں موجودہ عالمی اور علاقائی صورتحال کے تناظر میں سرکاری اخراجات میں کمی اور ایندھن کی بچت کے لیے اہم فیصلے کیے گئے اجلاس میں طے پایا کہ حکومت بلوچستان فوری طور پر اضافی کفایت شعاری مہم پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گی تاکہ مالی وسائل کا مؤثر استعمال کیا جا سکے اجلاس کو بتایا گیا کہ سرکاری اخراجات میں کمی اور ایندھن کی بچت کے لیے حکومت کی جانب سے اضافی کفایت شعاری مہم کے تحت متعدد عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں

 

کابینہ اجلاس میں تنخواہوں میں رضاکارانہ کٹوتی کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا کہ تمام صوبائی وزراء، مشیران اور پارلیمانی سیکرٹریز دو ماہ کی تنخواہ نہیں لیں گے، جبکہ صوبائی اسمبلی کے تمام اراکین کی تنخواہوں میں 25 فیصد رضاکارانہ کٹوتی کی جائے گی اسی طرح گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے وہ سرکاری افسران جن کی تنخواہ تین لاکھ روپے سے زائد ہے وہ بھی رضاکارانہ طور پر دو دن کی تنخواہ حکومت کو دیں گے تاہم صحت اور تعلیم کے شعبوں میں خدمات انجام دینے والے سرکاری ملازمین کو اس کٹوتی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے کابینہ نے سرکاری اجلاسوں اور تقریبات کے حوالے سے بھی نئے اصول متعارف کرانے کا فیصلہ کیا اجلاس میں طے کیا گیا کہ آئندہ تمام سرکاری اجلاس زیادہ تر ویڈیو لنک یا آن لائن طریقہ کار کے ذریعے منعقد کیے جائیں گے تاکہ غیر ضروری سفر اور اخراجات سے بچا جا سکے۔

 

اس کے ساتھ ساتھ غیر ملکی وفود کے علاوہ کسی قسم کے سرکاری عشائیے کی اجازت نہیں ہوگی سیمینارز اور تربیتی پروگرامز کے انعقاد کے لیے متعلقہ محکموں سے پیشگی اجازت لینا لازمی ہوگا اور انہیں صرف سرکاری عمارتوں یا آڈیٹوریمز میں منعقد کیا جا سکے گا اجلاس میں سرکاری دفاتر کے اوقات اور طریقہ کار میں تبدیلی کا بھی فیصلہ کیا گیا کابینہ کے مطابق صوبے میں سرکاری دفاتر ہفتے میں چار دن کام کریں گے، تاہم بینکنگ اور دیگر ضروری خدمات فراہم کرنے والے ادارے اس سے مستثنیٰ ہوں گے سرکاری دفاتر میں پچاس فیصد عملہ باری باری گھر سے کام (ورک فرام ہوم) کرے گا حکومت نے نجی شعبے کو بھی مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے نصف عملے سے گھر سے کام کروانے اور چار روزہ دفتری ہفتہ اپنانے پر غور کرے کابینہ نے تعلیمی اداروں کے حوالے سے بھی اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے تمام اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں 23 مارچ 2026 تک بہار کی تعطیلات (Spring Holidays) کا اعلان کر دیا تاہم واضح کیا گیا

 

کہ امتحانات اپنے پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق ہی منعقد ہوں گے اور ان پر تعطیلات کا اطلاق نہیں ہوگا اجلاس میں سماجی تقریبات اور عوامی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی چند رہنما اصول طے کیے گئے جس کے تحت شادی بیاہ کی تقریبات میں مہمانوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ 200 افراد تک محدود رکھنے اور صرف ایک ڈش پیش کرنے کی اجازت ہوگی۔ اسی طرح ہائی ویز پر گاڑیوں کی رفتار 65 سے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کے درمیان رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ ایندھن کی کھپت کو کم سے کم رکھا جا سکے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ کفایت شعاری مہم کا آغاز چیف منسٹر سیکرٹریٹ سے کر دیا گیا ہے جہاں تقریباً آٹھ سو کے قریب اسامیاں ختم کر دی گئی ہیں تاکہ سرکاری اخراجات میں نمایاں کمی لائی جا سکے

 

انہوں نے کہا کہ حکومت خود مثال قائم کرتے ہوئے اخراجات میں کمی کے اقدامات کر رہی ہے اور اس اقدام سے وسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں عوامی فلاح و بہبود پر صرف کیا جا سکے گا وزیراعلیٰ نے تمام سرکاری اداروں اور عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ توانائی اور وسائل کے تحفظ کے لیے حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کریں ، اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل نے صوبائی حکومت کی جانب سے کفایت شعاری کے اقدامات کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں وسائل کے محتاط اور ذمہ دارانہ استعمال کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی کابینہ کا یہ اقدام ایک مثبت مثال قائم کرتا ہے جس سے حکومتی اخراجات میں کمی اور قومی وسائل کے بہتر استعمال کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ گورنر بلوچستان نے امید ظاہر کی کہ اس فیصلے سے دیگر ادارے اور عوام بھی کفایت شعاری کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کریں گے اور اجتماعی طور پر معیشت کے استحکام میں مدد ملے گی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *