کوئٹہ : بلوچ ریپبلکن پارٹی کے مرکزی ترجمان شیر محمد بگٹی بلوچستان میں فورسز کی کاررائیوں اور زیر حراست ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فورسز کے طرف سے بلوچ نسل کشی میں مسلسل تیزی لائی جارہی ہیں فورسز نے مشکے میں پانچ لاپتہ بلوچ کو شہید کر کے ان کی لاشیں لیویز حکام کے حوالے کردی ہیں جو تمام عام بلوچ تھے، جنہیں مختلف اوقات میں فورسز نے اٹھا کر لاپتہ کردیا ہے جن میں علی بخش ولد نبی داد اس کا بھائی اللہ بخش جو مشکے بازار میں دکاندار تھے جن کو ان کے گھر سے فورسز نے اغواء کر لیا تھا سرفراز ولد محمد حیات بلوچ جو کہ خضدار میں مدرسے کا طالب علم تھا نیل جان ولد حیبت خان جو کہ مالدا تھا اور اس کو منجو سے اغواء کیا گیا تھا جبکہ ایک کی شناخت عظم خان ولد محمد خان کے نام سے ہوئی ہے حالیہ کارروائی کے دوران دو درجن سے زائدافراد کو فورسز نے اٹھا کر لاپتہ کردیا ہے اس کے علاوہ گزشتہ روز فورسز نے تمپ کے علاقے ملانٹ میں عام آبادیوں پر بیدریغ گولہ باری اور شیلنگ کر کے رشید بلوچ نامی شخص کو زخمی جبکہ متعدد افراد کو فورسز ان کے گھروں سے اٹھا کر لے گئے اس کے علاوہ پنجگور سے فورسز نے بی این ایم کے رہنماء خلیل بلوچ کے گھر پر چھاپہ مار کر ان کے بھائی یوسف بلوچ کو حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا ہے ترجمان نے کہا کہ بلوچ سیاسی کارکنان کے اغواء اور کارروائی میں مسلسل تیزی لائی جارہی ہیں جبکہ نہتے بلوچوں اور ان کے گھروں پر بمباری روز کا معمول بن چکا ہے ادھر سوئی میں مزید ہیلی کاپٹروں کی آمد کی اطلاعات ہے خدشہ ہے کہ ڈیرہ بگٹی میں ایک اور وسیع پیمانے پرکارروائی کی جائے گی ترجمان نے انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کی ہے کہ بلوچستان میں جاری ریاستی ظلم و جبرپر چشم پوشی کے بجائے اس کے خلاف اقدامات کریں۔