اسلام آباد : قومی اسمبلی میں اراکین نے حکومت کی خارجہ پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ حکومت خارجہ امور کے ہر فورم پر ناکام ہو گئی ہے چاروں پڑوسی ہم سے ناراض ہیں حکومت گوادر پورٹ کو صحیح طریقے سے ترقی دینے میں ناکام ہوئی ہے ۔ گوادر پورٹ کے آپریشنل ہونے سے پہلے ایک محدود جنگ کا خطرہ ہے حکومت تین سال گزرنے کے باوجود وزیر خارجہ مقرر نہیں کر سکی مشیرخارجہ سرتاج عزیز کو اپنی عمر کا لحاظ کرتے ہوئے استعفیٰ دے دینا چاہئے منگل کو وزارت خارجہ کی کٹوٹی تحریک پر اظہار خیال کرتے ہوئے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہو رہا ہے کہ پاکستان میں بڑھ بیر سے لے کر انگور اڈہ تک اپنی خارجہ پالیسی واضح نہیں کرسکا جو ہمیں ڈالر دیتا ہے ہم اس کے ہو جاتے ہیں ڈالر کی سیاست میں بار بار مار کھائی امریکہ اور روس کو افغانستان فتح کر کے نہ دے سکے ۔ سرتاج عزیز ورلڈ فوڈ پروگرام کے ماہر ہیں ان کی خدمات ایسے شعبہ میں ہونی چاہئیں ۔انہوں نے کہا کہ اجمل قصاب کے گھر کا پتہ کس نے دیا کس نے سری لنکا میں موجود مودی کو فون کیا۔ ہماری 70 سالہ فارن پالیسی کا آؤٹ پٹ کیا ہے ہمارے چاروں پڑوسی ہم سے ناراض ہیں، ترقی کے نام پر اس قوم کو مقروض اور تباہ و برباد کر دیا ہے پاک چین اقتصادی راہداری پر کام کی رفتار بہت کم ہو گئی ہے امریکہ اخبار کے مطابق پاکستان اور بھارت کے مابین گوادر بندرگاہ کے آپریشنل ہونے سے قبل محدود ایٹمی جنگ ہو سکتی ہے انہوں نے کہا کہ 43 سال کے لئے چین کو گوادر کی زمین دی ہے اس وجہ سے امریکہ ایران اور دیگر ممالک کے ساتھ نیول کی مشقیں کر رہا ہے پاکستان اور چین کی بھی گوادر میں نیول مشقیں ہونی چاہئے ملک میں این جی اوز کو بیرونی ممالک سے ملنے والے فنڈز بند ہونے چاہئے جس بھارتی اعظم کو دنیا ویزا نہیں دینا چاہتی تھی اب وہ سپرپاور کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ملکی فارن پالیسی قوم کی امنگوں اور صوبوں کے مطابق ہونی چاہئے ۔رکن قومی اسمبلی نوید قمر نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا کہ ہمسایوں کے ساتھ ہمارے تعلقات اچھے نہ ہوں۔ افغانستان ، بھارت اور ایران کا ملاپ پاکستان کے مستقبل کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے اگر ہمارے ہمسایوں سے تعلقات اچھے ہوں گے تو بارڈر پر صورت حال کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے پاکستان کی افغانستان میں پک اینڈ چوز کی پالیسی نہیں ہونی چاہئے افغان لوگوں کی رائے کا احترام کیا جانا چاہئے۔ رکن قومی اسمبلی شیریں مزاری نے کہا کہ حکومت نے دفتر خارجہ میں دو بندے رکھے ہیں جس سے کنفیوژن بڑھ رہی ہے دفتر خارجہ سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ فاٹا سے ڈرون حملہ ہو تو کوئی مسئلہ نہیں بلوچستان میں ہو تو کہا گیا کہ ریڈ لائن عبور کی گئی ہے کیا فاٹا پاکستان کا حصہ نہیں ہے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو کوئی سر پیر نہیں ہے وزیر خارجہ کا ہونا بہت ضروری ہے اس کے بغیر دیگر ممالک سے ون ٹو ون ملاقات نہیں ہو سکتی انہوں نے کہا کہ نیوکلیئر سپلائر گروپ میں شمولیت کا اب خیال آیا ہے تو اس سے آپ کی نااہلیت ثابت ہوتی ہے کہ پہلے کیوں نہیں گئے چین نے اگر بھارت کی مخالفت کی ہے تو یہ اس کا اصولی موقف ہے ۔شیریں مزاری نے کہاکہ پارلیمانی کمیٹی نے افغانستان کے حوالے سے ایک رپورٹ بجھوائی ہے۔ اس کو دیکھ تو لیتے افغان ایمبیسی نے ایک نچلے درجہ کا افسر بجھوا دیا ۔ آرمی چیف جرمنی میں گئے تو اپنے ہم منصب کے ساتھ انہوں نے وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی بھارت کے ساتھ تعلقات کیسے بہتر ہوں گے کہ مسلسل بارڈر پر فائرنگ کی جا رہی ہے ۔کانگریس میں مودی کی تقریر پاکستان کے خلاف تھی بھارت کے ساتھ کوئی پالیسی نہیں ہے دفاع کی پالیسی اس لئے نہیں آ سکتی کیونکہ وزیر دفاع کا کچھ پتہ نہیں ہے امریکہ کے ساتھ آپ کے تعلقات اچھے کب تھے اس حکومت نے لفظ اسٹرٹیجک اور دوست کو مطلب تبدیل کر دیاہے جو اس حکومت کا خاص کارنامہ ہے۔ ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی شیخ صلاح الدین نے کہاکہ بھارتی وزیر اعظم مودی نواز شریف سے دوستی کے باوجود ناراض رہتے ہیں ہمیں سب سے زیادہ مسئلہ افغان بارڈر پر درپیش ہے اس کی جانب خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔جب تک دفتر خارجہ کو مضبوط نہیں کیا جاتا معاشی حالات بہتر نہیں ہو سکتے انہوں نے کہا کہ ہمارے اسلامی برادر ممالک سے بھی تعلقات اچھے نہیں ہیں جماعت اسلامی کی رکن اسمبلی عائشہ سید نے کہا کہ جب تک پاکستان معاشی طور پر آزاد نہیں ہوتا اس وقت تک آزاد خارجہ پالیسی نہیں بن سکتی ہماری جانب سے امن کی آشا کی بات ہوتی ہے لیکن بھارت بلوچستان اور کراچی میں دہشت گردی میں ملوث ہے انہوں نے کہا کہ اگر وزارت خارجہ کی تین سالہ کارکردگی کو دیکھا جائے تو افسوس ہوتا ہے۔ رکن اسمبلی جمشید دستی نے کہا کہ حکومت امریکہ کو اعتماد میں نہ لے سکی تو اس لئے وزیر خارجہ نہیں لگایا جا سکا۔ اس عمر میں سرتاج عزیز سے یہ کام نہیں لینا چاہئے ان کی عمر اللہ اللہ کرنے کی ہے اسامہ بن لادن کو مخبری پر مروایا گیا وزیر اعظم نواز شریف سپریم کورٹ چلے گئے مگر سعودی عرب کی جانب سے پیغام آنے پر پیچھے ہٹ گئے اور ابھی تک ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ نہیں آئی امریکہ ہمارا دشمن ہے ۔