ہر انسان کو توانائی کی ضرورت ہوتی ہے، مگر توانائی کے ذرائع محدود ہیں، جس کی وجہ سے طاقت چند ہاتھوں میں مرکوز ہو جاتی ہے دنیا کے تقریباً دو تہائی تیل کا حصول مشرقِ وسطیٰ سے ہوتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ باقی دنیا اس خطے پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے کئی دہائیوں سے پیٹرولیم عالمی مالیات اور جغرافیائی سیاست کی بنیاد رہا ہے یہ عالمی طاقت کے ڈھانچے کے مرکز میں قائم رہا ہے تاہم اب یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ پیٹرولیم پر کنٹرول ہی عالمی غلبے کی نئی شکل بن چکا ہے امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع نے عالمی منڈیوں کو متاثر کیا ہے اس کے نتیجے میں امریکی ڈالر انڈیکس اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے عالمی کشیدگی میں مزید شدت آئی ہے؛ اور یہ دونوں عوامل پیٹروڈالر نظام کا حصہ ہیں مزید برآں، آبنائے ہرمز کی مسلسل ناکہ بندی اس بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے ایک حالیہ رپورٹ میں ڈوئچے بینک کی اسٹریٹجسٹ ملیکا سچدیوا نے کہا کہ ایران تنازع کا امریکی ڈالر پر طویل مدتی اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ پیٹروڈالر نظام کی بنیادیں کتنی مضبوط رہتی ہیں اگر یہ تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو ممکن ہے کہ امریکی ڈالر عالمی تجارت کی غالب کرنسی نہ رہے اور اس کی حیثیت بطور عالمی ذخیرہ کرنسی کو بھی چیلنج درپیش ہو 1974 میں امریکہ نے سعودی عرب کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس کے نتیجے میں پیٹروڈالر نظام قائم ہوا اس نظام کے تحت تیل کی برآمدات امریکی ڈالر میں کی جاتی ہیں اس انتظام نے ڈالر کو عالمی کرنسی نظام میں ایک غالب حیثیت عطا کی چونکہ تیل صنعتی پیداوار، مینوفیکچرنگ اور نقل و حمل کے لیے ضروری ہے، اس لیے ممالک کو اس نظام کے تحت کام کرنے پر مجبور ہونا پڑا امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازعات امریکہ کے اس طویل المدتی کردار کو کمزور کر رہے ہیں جو وہ پیٹروڈالر نظام میں ادا کرتا رہا ہے آبنائے ہرمز دنیا کی مصروف ترین تیل برداری گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جہاں سے دنیا کی روزانہ تیل کی کھپت کا تقریباً 20 سے 25 فیصد گزرتا ہے، اور یہ عراق، کویت، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے بڑے پیداواری ممالک کی اہم برآمدی راہ بھی ہے۔ دوسری جانب، روس اور ایران جیسے ممالک، جو اس وقت امریکی پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں، ڈالر کے بغیر لین دین کی طرف بڑھ رہے ہیں اور mBridge جیسے ڈیجیٹل کرنسی نظام تیار کر رہے ہیں تاکہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کو ممکن بنایا جا سکے مزید یہ کہ اگر آئندہ برسوں میں انہیں معاشی استحکام یا سیکورٹی کے مسائل درپیش رہے، تو خلیجی ممالک بھی ڈالر میں سرمایہ کاری کم کر سکتے ہیں، جس سے پیٹروڈالر نظام کی برتری مزید کمزور ہو سکتی ہے۔ موجودہ حالات ایک تاریخی موڑ ثابت ہو سکتے ہیں، جیسا کہ 1970 کی دہائی کے تیل کے
بحران (اوپیک) کے دوران دیکھا گیا تھا۔ ان بحرانوں کے بعد کئی ممالک نے قابلِ تجدید توانائی کو اپنانا اور توانائی کے مؤثر استعمال کو فروغ دینا شروع کیا آج کے دور میں چین عالمی سطح پر تقریباً 80 فیصد سولر پینلز اور 70 فیصد ہوا اور بیٹری کے اجزاء تیار کرتا ہے مزید برآں، یہ بھی بعید نہیں کہ کچھ ایشیائی ممالک مستقبل میں روایتی پیٹرولیم مصنوعات کے بجائے ایٹمی توانائی جیسے متبادل ذرائع کو اختیار کریں آخر میں، امریکہ اور ایران کے تنازع نے عالمی ڈالر نظام کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے اس نے پیٹروڈالر نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کیا ہے اور یہ ظاہر کیا ہے کہ پیٹرولیم پر کنٹرول آج بھی عالمی طاقت کے توازن کو تشکیل دینے میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔
پیٹرولیم پر کنٹرول: نئی عالمی طاقت
![]()
وقتِ اشاعت : April 6 – 2026
Leave a Reply