|

وقتِ اشاعت :   June 22 – 2016

کوئٹہ : بلوچستان کی سیاسی ، مذہبی ، قوم پرست جماعتوں کے رہنماؤں قبائلی اور مذہبی عمائدین نے کہا ہے کہ ملک کو بارڈر مینجمنٹ کی بجائے اسٹیٹ مینجمنٹ کی ضرورت ہے ان لوگوں سے پوچھا جانا چاہیے جنہوں نے اتنے عرصے تک بارڈر کو کھلا رکھا اور لاکھوں مہاجرین پاکستان آئے ، پاکستان اور بلوچستان کو عالمی یتیم خانہ نہیں بنا چاہیے ، گوادر کے تحفظات اور ڈیموگرافک چینج کے متعلق قانون سازی وقت کی اہم ضرورت ہے ورنہ بلوچستان کے لوگ وسائل کے ساتھ ساتھ سرزمین سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار سابق سینیٹر ممتاز سیاسی رہنماء حاجی لشکری رئیسانی ، بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی ، جمعیت علماء اسلام کے صوبائی جنرل سیکرٹری ملک سکندر ایڈووکیٹ ، ممتاز بزرگ قوم پرست رہنماء ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ ، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے عبدالخالق ہزارہ ، عوامی نیشنل پارٹی کے زمرک خان اچکزئی ، پاکستان تحریک انصاف کے ہمایوں جوگیزئی ، جماعت اسلامی کے مولانا عبدالحق ہاشمی ، طاہر ہزارہ و دیگر نے حاجی لشکری رئیسانی کی جانب سے سراوان ہاؤس میں دیئے گئے افطار ڈنر کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیا ۔ مقررین کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں بارڈر مینجمنٹ کے حوالے سے بات زیر بحث ہے ان لوگوں سے پوچھا جانا چاہیے جن کی وجہ سے بارڈر اتنے عرصے تک کھلا رہا اور لاکھوں مہاجرین یہاں آئے ملک کو بارڈر مینجمنٹ کے ساتھ ساتھ اسٹیٹ مینجمنٹ کی بھی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اسلام آبادمیں نظام بچانے کی باتیں ہورہی ہیں بتایا جائیں کہ کیا اس نظام کو بچایاجارہا ہے جس میں میگاکرپشن کیسز ہوتے ہیں یا اس نظام کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے جہاں ایک وزیراعظم کے اربوں ڈالر کے اثاثے بیرون ملک موجود ہیں یا پھر اس نظام کو بچایا جارہا ہے جہاں 2 سو ارب سے زائد رقم بیرون ملک منتقل کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن آمرانہ ادوار کی پیداوار ہے اس لئے ایسے لوگوں کو انجینئرڈ اور سمی انجینئرڈ الیکشن کے نتیجے میں منتخب کرکے لایا جاتا ہے جو کرپشن کی بنیاد رکھنے والوں کا احتساب نہ کرسکے ۔ مقررین کا کہنا تھا کہ ہم حال کے بحرانوں میں اس قدر پھنسے ہوئے ہیں کہ ہمیں آئندہ نسلوں کا کوئی خیال ہی نہیں ۔ عوام نے ووٹ دے کر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو پارلیمنٹ پہنچایا ۔ بتایا جائے کہ وہ نمائندے صحیح نہیں تھے یا پھر عوام کی چوائس غلط تھی ۔ انہوں نے کہا کہ جس ملک میں پارلیمنٹ مستحکم اور بااختیار و ایکٹیو نہیں ہوا کرتی وہاں مسائل حل نہیں ہوتے ۔ موجودہ حالات سے لگتا ہے کہ سیاستدان شاید حالات کو سدھارنے میں سنجیدہ ہی نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ کرپٹ نظام کو عوام کی طاقت سے پامال ہونا چاہیے ۔ عوام کو اس متعلق سوچنا ہوگا اگر کسی اور قوت کی دخل اندازی سے یہاں معاملات کو ڈیل کیا جاتا ہے تو اس بارے بھی سب کو سوچنا ہوگا ۔ مقررین کا کہنا تھا کہ کرپٹ نظام میں حکومتیں ڈیل کے تحت لائی جاتی ہیں عوام اور سیاسی جماعتیں ان عناصر کا راستہ روکیں یہاں چار سو اراکین پر مشتمل پارلیمنٹ کو تین سال ہوچکے ہیں مگر افسوس کہ اس ملک کا وزیرخارجہ تک نہیں ، فوج کو پانچ جبکہ وزیر خارجہ کو ایک سو 20 ممالک کے سرحدوں پر لڑنا ہوتا ہے ایک طرف ایٹمی قوت ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے لیکن دوسری جانب حالت یہ ہے کہ یہاں ایک ماہ سے وزیراعظم ہی نہیں ۔ وزیراعظم کی ملک میں غیر موجودگی ثابت کرتی ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے اور ملک بحران کی طرف جارہا ہے اگر سیاسی کارکن اسی طرح معاملات سے قطع تعلق رکھتے رہے تو پاکستان میں بھی افغانستان ، لیبیا ، عراق ، شام اور مصر جیسے بحران کا راستہ نہیں روکا جاسکے گا ۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبے کے ہم مخالف نہیں تاہم یہاں بڑے پیمانے پر غیر مقامی افراد کی آمد اور اس سے بلوچستان کے بلوچ پشتون سمیت دیگر کا تشخص خطرے میں ہیں اس لئے ڈیموگرافک چینج اور گوادر میں بلوچستان کے لوگوں کے تحفظات کے حوالے سے قانون سازی ہونی چاہیے اگر ظلم و ستم ہوگا اور مسخ شدہ لاشیں پھینکی جائے گی تو پھر صدائے بغاوت ضرور بلند ہوگا یہاں کوئی داخلی اور خارجی نظام نہیں احتساب کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے مگر احتساب ہو تو جرنیلوں ، سیاستدانوں سمیت سب کا ہونا چاہیے ۔