|

وقتِ اشاعت :   4 hours پہلے

مغربی افریقی ملک مالی کے وزیرِ دفاع باغیوں کے حملے میں جاں بحق ہو گئے جبکہ دارالحکومت اور دیگر شہروں کے قریب فوج اور باغیوں کے درمیان لڑائی دوسرے روز بھی جاری ہے۔

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق وزیرِ دفاع ساديو كامارا اپنے گھر پر ہونے والے کار بم حملے میں جاں بحق ہوئے۔ ان کے ساتھ ان کی دوسری اہلیہ اور دو پوتے بھی جاں بحق ہوئے۔ یہ حملہ باماکو کے قریب فوجی حکومت کے گڑھ کاتی میں کیا گیا جس کی تصدیق اہلِ خانہ اور ایک سرکاری اہلکار نے کی۔

ہفتے کے روز ہونے والے یہ مربوط حملے طوارق باغیوں کے اتحاد ایف ایل اے اور شدت پسند گروہ جے این آئی  ایم کی جانب سے کیے گئے جنہوں نے ملک کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا۔

خبررساں ایجنسی کے مطابق طوارق باغیوں نے اعلان کیا ہے کہ ایک معاہدے کے تحت مالی کی فوج کی حمایت کرنے والی روسی افواج کو شمالی شہر کدال سے نکلنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ باغیوں کا دعویٰ ہے کہ کدال شہر پر اب ان کا مکمل کنٹرول ہے۔

ایک طوارق عہدیدار نے بتایا کہ مالی کی افواج اور اس کے روسی اتحادیوں کو کیمپ نمبر 2 چھوڑنے کی اجازت دے دی گئی ہے جہاں وہ گزشتہ روز سے محصور تھے۔

کدال شہر کو طوارق باغیوں کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ اس شہر کو نومبر 2023 میں مالی کی فوج نے روسی نیم فوجی گروہ ویگنر کی مدد سے دوبارہ حاصل کیا تھا۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *