حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 26 روپے 77 پیسے اضافہ کر دیا ہے۔
ڈیزل کی نئی قیمت 380 روپے 19 پیسے فی لیٹر جبکہ پیٹرول کی قیمت بڑھا کر 393 روپے 35 پیسے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔
حکومت کے اس فیصلے کے بعد عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافے کا امکان ہے۔
وزیرپیٹرولیم علی پرویز ملک نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی کشیدگی سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پھربڑھ رہی ہیں،عالمی منڈی اور شراکت داروں سے معاہدوں کے باعث قیمتیں بڑھانا پڑیں،جس قدر ممکن ہوا،حکومت نے عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافے کو برداشت کیا،وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں نے عوام کو تاریخی ریلیف پیکیج دیا،دعاگو ہیں کہ جلد علاقائی امن کے حصول میں پیش رفت ہو،امن قائم ہو تاکہ عوام کو پیٹرولیم مصنوعات پر ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
بہرحال حکومت کی جانب سے محض ریلیف فراہم کرنے کے دعوے کئے جاتے ہیں لیکن ان پر کبھی عمل نہیں ہوتا۔
اس وقت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں جبکہ مہنگائی نے پہلے سے ہی عوام کی مالی مشکلات بڑھادی ہیں ۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد ملک بھر میں مہنگائی کی نئی لہر آئے گی ،مارکیٹوں میں اشیائے خورونوش کی قیمتیں مزید بڑھ جائینگی ۔
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹیشن اخراجات بڑھتے ہیں جس کا براہ راست اثر روزمرہ استعمال کی اشیاء پر پڑتا ہے اور عوام اس معاشی بوجھ کی وجہ سے ذہنی کوفت میں مبتلا ہیں۔ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے حکومتی اخراجات اور مراعات میں مزید کمی لائے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جاسکے ۔
ایک طرف توانائی بچت کیلئے سمارٹ لاک ڈاؤن لگایا جارہا ہے تو دوسری جانب گھنٹوں لوڈ شیڈنگ بھی کی جارہی ہے جس سے عوام اور کاروباری طبقہ دونوں ہی متاثر ہورہے ہیں ۔
اس طرح کے اقدامات سے عوام میں حکومت کے بارے میں اچھا تاثر نہیں جائے گا، حکومت عوام اور تاجر برادری کے مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے بہتر فیصلے کرے تاکہ کاروبار کے ساتھ عوام کا کچن بھی چل سکے کیونکہ مہنگائی کا بوجھ اب عوام کی برداشت سے باہر ہوتا جارہا ہے۔
Leave a Reply