|

وقتِ اشاعت :   3 hours پہلے

کوئٹہ: بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پجار) کے مرکزی سینئر وائس چیئرمین بابل ملک بلوچ کی پولی ٹیکنک کالج ہاسٹل سے مبینہ جبری گمشدگی قابلِ مذمت اور انتہائی تشویشناک عمل ہے۔

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پجار) کے مرکزی ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ رات پولی ٹیکنک کالج کے ہاسٹل سے ایک پرامن سیاسی جدوجہد کرنے والے طلبہ رہنما کو لاپتہ کرنا نہ صرف قابلِ مذمت ہے بلکہ بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی بھی ہے، جس سے پرامن تعلیمی ماحول میں خوف و ہراس پیدا ہو رہا ہے اور بلوچستان کے تعلیمی عمل کو متاثر کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش محسوس ہوتی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بابل ملک بلوچ ایک پرامن سیاسی کارکن ہیں، جو طلبہ کے تعلیمی و جمہوری حقوق اور تعلیم کے فروغ کے لیے سرگرمِ عمل رہے ہیں۔ ان کی اس طرح گرفتاری اور لاپتہ کرنا آئین و قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے، قانونی طریقہ کار اپنایا جائے اور آئینِ پاکستان کے تحت کارروائی کی جائے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پجار) ایک جمہوری و سیاسی طلبہ تنظیم ہے اور سیاسی و فکری طور پر نیشنل پارٹی سے وابستہ ہے، جو ملک میں پارلیمنٹ کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور شفاف عدالتی نظام پر یقین رکھتی ہے۔ بی ایس او پجار نے ہمیشہ ملک میں جمہوری عمل کی حوصلہ افزائی کی ہے اور طلبہ کے تعلیمی، جمہوری اور آئینی حقوق کے حصول کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتی رہی ہے۔
تنظیم کا ہمیشہ سے مؤقف رہا ہے کہ نوجوانوں کو ماورائے آئین لاپتہ کرنے سے بلوچستان میں بدامنی اور بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نوجوانوں کو لاپتہ کرنے کے بجائے انہیں آئین اور قانون کے مطابق الزامات کا سامنا کرنے کا موقع فراہم کیا جائے اور ان کے خاندانوں کو اذیت سے دوچار نہ کیا جائے۔
ترجمان نے کہا کہ ریاستی ادارے ماورائے آئین و قانون اقدامات سے گریز کریں اور فوری طور پر بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پجار) کے مرکزی سینئر وائس چیئرمین بابل ملک بلوچ کو رہا کیا جائے۔
مرکزی ترجمان نے انسانی حقوق کی تنظیموں، سول سوسائٹی، سیاسی جماعتوں اور میڈیا سے اپیل کی کہ وہ اس واقعے کا نوٹس لیں اور اس مسئلے کو اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ ایسے واقعات کا سدباب ممکن ہو سکے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *