|

وقتِ اشاعت :   3 hours پہلے

کوئٹہ : بلوچستان صوبائی اسمبلی میں قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس ممبر کمیٹی خیر جان بلوچ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

اجلاس میں صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو، اصغر علی ترین اور علی مدد جتک کے علاوہ سیکرٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز احمد گورایہ اور دیگر متعلقہ افسران بھی اجلاس میں موجود تھے۔

اجلاس کے دوران بلوچستان وٹنس پروٹیکشن (ترمیمی) بل 2026 پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔

کمیٹی نے بلوچستان وٹنس پروٹیکشن ایکٹ 2016 کا جائزہ لیتے ہوئے اس امر کو تسلیم کیا کہ اس کے نفاذ کے دوران پیش آنے والی عملی اور انتظامی خامیوں کے باعث قانون میں بہتری ناگزیر ہے۔

مجوزہ ترامیم کا مقصد قانون کو مؤثر انداز میں اضافہ اور اسے موجودہ قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی بہترین روایات سے ہم آہنگ کرنا ہے۔

اہم ترامیم میں سنگین جرائم کی تعریف کو ازسرنو متعین کرتے ہوئے ایسے جرائم تک محدود کرنا شامل ہے

جن کی سزا سات سال یا اس سے زائد قید ہو، تاکہ تحفظ کے وسائل زیادہ خطرناک نوعیت کے مقدمات پر مرکوز کیے جا سکیں۔

اسی طرح گواہ کی تعریف کو وسعت دیتے ہوئے اس میں متاثرین، متاثرہ افراد اور مدعیان کو بھی شامل کیا گیا ہے،

جس سے قانون کو مزید جامع اور متاثرہ فریق کے لیے مؤثر بنایا گیا ہے۔

محفوظ گواہوں کی شناختی تفصیلات میں تبدیلی اور گواہی کے محفوظ اندراج کے لیے خصوصی سہولیات کے قیام کی شقیں بھی شامل کی گئی ہیں تاکہ انہیں دھمکیوں اور دباؤ سے تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

ادارہ جاتی اصلاحات کے تحت وٹنس پروٹیکشن ایڈوائزری بورڈ کی ازسرنو تشکیل، جس میں عدالتی نمائندگی، کورم کی وضاحت اور مقامی سطح پر ذیلی یونٹس کا قیام شامل ہے، تجویز کیا گیا ہے

تاکہ نظام کو مزید مؤثر اور قابل رسائی بنایا جا سکے۔کمیٹی نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ جامع اصلاحات بلوچستان میں گواہوں کے تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط، مؤثر اور شفاف بنائیں گی،

جس سے عوام کو بلا خوف و خطر نظام انصاف میں شرکت کا حوصلہ ملے گا اور قانون کی حکمرانی پر اعتماد میں اضافہ ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *