اوستہ محمد : محکمہ ایریگشن پٹ فیڈرنہرکے ذیلی شاخ عمرانی شاخ روپاشاخ مگسی شاخ کے ٹیل میں پانی کی بجائے مٹی کادھول اڑرہی ہے جبکہ پٹ فیڈر کینال کے آفسرشاہی کی ملی بھگت سے زرعی پانی کی خریدفروخت جاری غیرقانونی واٹر کورسوں کے روک تھام کے لئے ہائی کورٹ فیصلے کو ایریگیشن حکام نے ہوا میں اڑ ا دیا ۔نا اہل ایریگیشن پٹ فیڈر کینال کے کرپٹ عملے کا فوری تبادلہ کیاجائے ۔ان خیالات کا اظہار ٹیل کے مقامی زمیندار مقبول احمد عمرانی ،میر قربان خان عمرانی، میر عبدالصمد عمرانی، محمد زمان ، محمد شریف عمرانی کمال خان دیگر نے ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکاہے علاقے کے عوام پانی کے بوندبوند کو ترس گئے ہیں۔ جانور پیاسے مرنے لگے ہیں لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ کمشنر نصیر آباد علاقے کا دورہ کریں ۔انہوں نے مزید کہاکہ ایریگشن پٹ فیڈر کینال کے آفسران کی ملی بھگت سے پانی کو بیرون کے لوگوں کو فروخت کرکے ہماری زمینوں کو بنجر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پاکستان نے چائنہ حکومت کے تعاون سے اربوں روپے خرچ کرکے پٹ فیڈر اور ذیلی نہروں میں سائز کینال سسٹم متعارف کرایا ہے لیکن سارے سسٹم کو نا اہل اور ایریگشن ماحول سے نا وقف آفسرون نے سارے سسٹم کو تباہ برباد کر دیا ہے ۔انہوں نے پٹ فیڈر ایریگشن کی ملی بھگت سے بھل صفائی کی مد میں براہ راست کرپشن کرکے راتوں رات امیر بن گئے ۔پانی نہ ملنے کی وجہ سے زمیندار قرضے تلے دب گئے انہوں نے کہا کہ سیکریٹری ایریگیشن ،وزیراعلیٰ بلوچستان اور دیگر تحقیقاتی ادارے انکے خلاف کاروئی کریں ورنہ ہم بھر پور احتجاج کریں گے اور عدالت بھی جائیں گے۔