|

وقتِ اشاعت :   November 22 – 2016

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے ریاستی و سرحدی امور لیفٹینٹ جنرل(ر) عبدالقادر بلوچ نے کہا ہے کہ افغان مہاجرین کی پاکستان میں موجودگی پر 104ارب ڈالر کا معیشت پر بوجھ پڑا ہے ۔سوموار کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران انھوں نے ایوان کو بتایا کہ اس وقت پاکستان میں مقیم رجسٹرد افغان مہاجرین کی تعداد 14لاکھ70ہزار ہے جبکہ17اکتوبر 2016تک دو لاکھ چونسٹھ ہزار افغان مہاجرین افغانستان واپس جا چکے ہیں، اس دوران دو لاکھ افغان مہاجرین ایسے بھی وطن واپس گئے ہیں جو غیر قانونی طور پر پاکستان میں رہائش پذیر تھے، وفاقی وزیر نے بتایا کہ ان غیر قانونی طور پر ریائش پذیر افغان باشندوں نے محض اس لیئے رجسٹریشن نہیں کروائی کہ انہں واپس نہ بھیجا جا سکے ، طاہرہ بخاری کی جانب سے اٹھائے گئے ایک سوال کے جواب میں جنرل قادر بلوچ نے کہا کہ جولائی سے اب تک6لاکھ افغان مہاجرین کو واپس بھیجا جا چکا ہے ، اس حوالہ سے تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے کہ غیر رجسٹرڈ مہاجرین کی رجسٹریشن کی جائے ، ، ممبر قومی اسمبلی مسرت رفیق کی جانب سے اُٹھائے گئے ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ فاٹا میں غربت مٹانا ہم سب کی ذمہ داری ہے ، 70سالوں میں کسی نے بھی اس طرف توجہ نہیں دی، اب فاٹا اصلاحات پر عمل در آمد شروع کیا گیا تو اس کے سیر حاصل نتائج بر آمد ہو ں گے۔انھوں نے بتایا کہ غربت کی شرح سب سے زیادہ بلوچستان میں71.2فیصد، جبکہ آزاد کشمیر میں 24.92فیصد، پنجاب میں 31.4فیصد، سندھ میں43.1فیصد کے پی کے میں49.2فیصد ہے ۔