اسلام آباد: چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلا کر مردم شماری کرانے کے مسئلہ کا حل نکالا جائے۔ جبکہ حکومت کی طرف سے سینٹ کو بتایا گیا ہے کہ مردم شماری موخر کرنے کا فیصلہ مشترکہ مفادات کونسل میں کیا گیا ہے‘ مردم شماری نہ ہونے میں کسی صوبے کے مفاد کی بات کرنا افسوسناک ہے ،اسلام آباد کے ماسٹر پلان پر ہر 20 سال بعد نظرثانی کی جاتی ہے‘ اسلام آباد کے ہسپتالوں کو بہتر کیا جارہا ہے‘ تین نئے ہسپتال بنائے جارہے ہیں‘ تعلیمی اداروں میں سہولیات فراہم کی جارہی ہیں‘ گریڈ ایک سے 16 تک ریگولر بھرتیاں وزارتیں این ٹی ایس کے ذریعے کرتی ہیں‘ اس سے اوپر گریڈز میں بھرتیاں پبلک سروس کمیشن کے ذریعے کی جاتی ہیں،قبائلی علاقوں میں دو کے سوا تمام ایجنسیوں میں متاثرین کی بحالی اور آبادکاری کا عمل مکمل ہو چکا ہے‘ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں یہ عمل جاری ہے‘ رواں سال کے آخر تک تمام متاثرین کو دوبارہ آباد کردیا جائے گا۔ پیر کو ایوان بالا کے اجلاس میں سینیٹر محسن عزیز کی تحریک پر بحث سمیٹے جانے کے بعد ریمارکس دیتے ہوئے چیئرمین سینٹ نے کہا کہ آرٹیکل 51 کے تحت قومی اسمبلی کی سیٹیں بھی نئی مردم شماری کے تحت ہونگی۔ فوج مشرقی و مغربی سرحدوں کی صورتحال کے پیش نظر جلد دستیاب نہیں ہوگی۔ سی سی آئی کا اجلاس بلا کر اس مسئلے کا حل نکالا جائے۔ نادرا پر انحصار کرنا مناسب نہیں ہوگا‘ کوئی اس پر اعتماد نہیں کرے گا۔وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے کہا کہ اس ایوان میں کئی بار اس معاملے پر بات ہو چکی ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ مردم شماری ہو اس کے لئے بجٹ بھی مختص ہو چکا تھا‘ باقی تیاریاں بھی‘ مشترکہ مفادات کونسل نے فوج کی دستیابی نہ ہونے کی وجہ سے مردم شماری موخر کرنے کا فیصلہ کیا۔ شفافیت کی خاطر فوج کی نگران میں مردم شماری ضروری ہے۔ مردم شماری کے لئے بڑی تعداد میں فوجیوں کی ضرورت ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں فوج فی الحال دستیاب نہیں۔ یہ کہنا کہ مردم ماری نہ ہونے میں کسی صوبے کا مفاد ہے افسوسناک بات ہے۔ کئی دیگر تجاویز پر بھی کام ہو رہا ہے۔ ان میں نادرا کا ڈیٹا استعمال کرنے کی تجویز بھی ہے۔ اب مردم شماری کے لئے مارچ 2017ء کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ قبل ازیں سینیٹر محسن عزیز نے تحریک پیش کی کہ ایوان ملک میں مردم شماری کرنے میں تاخیر پر حکومتی موقف کو زیر بحث لائے۔ تحریک پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے انہو نے کہا کہ آخری مردم شماری کو 18 سال ہو چکے ہیں۔ درست اعداد و شمار کے بغیر کیسے کوئی کام ہو سکتا ہے۔ فوج تو سرحدوں پر مصروف ہے۔ اس طرح تو مردم شماری کئی سال نہیں ہو سکے گی۔ جلد سے جلد مردم شماری کی جائے۔ الیاس بلور نے کہا کہ دو تہائی فوج سرحدوں پر مصروف ہے تو مردم شماری کیسے ہوگی۔ این ایف سی ایوارڈ اور عام انتخابات کے لئے نئی حلقہ بندیوں سے قبل مردم شماری ضروری ہے۔ سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ مردم شماری صرف فوج کے مصروف ہونے کی وجہ سے نہیں ہو پا رہی ‘ مجھے تو مردم شماری کبھی ہوتی نظر نہیں آرہی۔ حکومت کو اس مسئلے کا حل سوچنا چاہیے۔ جنرل (ر) عبدالقیوم نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے ہی 1998ء میں آخری مردم شماری کرائی تھی۔ اور مرحلہ وار بھی کرائی جاسکتی ہے۔ اب بھی موجودہ حکومت ہی مردم شماری کرائے گی۔ مردم شماری 2008ء اور اس کے بعد کیوں نہیں کرائی جاجائے اپوزیشن ارکان کو اس کی وجہ بھی بتانی چاہیے۔ سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ مردم شماری کے بغیر منصوبہ بندی نہیں کی جاسکتی۔ سینیٹر نہال ہاشمی نے کہا کہ مردم شماری کے مسئلے پر طنز نہیں کرنا چاہیے۔ ہر دس سال بعد مردم شماری ہونی چاہیے‘ موجودہ حکومت کے دور میں مردم شماری ضرور ہوگی۔ سینیٹر اعظم موسیٰ خیل نے کہا کہ ایک صوبے کی اجارہ داری کے لئے مردم شماری نہیں کرائی جاتی، سینیٹر چوہدری تنویر خان کی تحریک پر بحث سمیٹتے ہوئے وزیر مملکت کیڈ طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ماسٹر پلان پر قواعد کے تحت ہر 20 سال بعد نظرثانی کی جانی ہے۔ وقتاً فوقتاً اس میں تبدیلیاں آتی رہی ہیں۔ اسلام آباد پانچ زونز میں تقسیم ہے۔ 2010ء میں زون فور جس میں زرعی فارمز تھے اس میں تبدیلی کی گئی۔ وہاں ہاؤسنگ سوسائٹیاں بھی بنیں اور سکول بھی‘ سی ڈی اے نے بھی اپنی سکیم لانچ کی۔ ایف نائن رہائشی سیکٹر تھا۔ ماسٹر پلان میں تبدیلی کرکے یہاں پارک بنایا گیا۔ شہریوں کی ضرورت کے تحت ماسٹر پلان میں تبدیلیاں کرنی چاہئیں۔ سی ڈی اے نے دیہی علاقوں کو کبھی اون نہیں کیا وہاں بائی لاز نہیں بنائے۔ 25 سال بعد سی ڈی اے کو یاد آتا ہے کہ یہ ہاؤسنگ سوسائٹی غیر قانونی ہے۔ برما ٹاؤن قیام پاکستان سے پہلے کی آبادی ہے۔ اسے غیر قانونی ڈیکلیئر کردیا گیا تھا۔ وزیر اعظم کی ہدایت پر بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے نام سے ادارہ بنا رہے ہیں۔ اسلام آباد میں ٹرانسپورٹ سسٹم لایا جائے گا۔ پرائیویٹ پارٹی بسیں چلائے گی۔ سبسڈی دینا پڑی تو وہ بھی دیں گے۔ پمز کی او پی ڈی میں روزانہ دس ہزار مریض آتے ہیں حالانکہ شروع میں یہ 500 لوگوں کے لئے تھی۔