|

وقتِ اشاعت :   November 23 – 2016

اسلام آباد : سیاد این جی او کی جانب سے اسلام آباد ایکسپوژر پر آئی ہوئی بلوچستان کے17رکنی وفد نے لوک ورثہ اسلام آباد کا دورہ کیا۔ وفد میں بلوچی، براہوئی، پشتو ، ہزارگی اکیڈمی کے ساتھ ساتھ کلچرل ڈیپارٹمنٹ سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے۔ لوک ورثہ آمد کے موقع پر انھوں نے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر لوک ورثہ ڈاکٹر فوزیہ سعید سے ملاقات کی۔ اور کلچر پر سیر حاصل کی۔ لوک ورثہ کی ٹیم سے وفد کو متعارف کرایا گیا۔ اس موقع پرڈاکٹر فوزیہ سعید کا کہنا ہے کہ لوک ورثہ ثقافت کو وسعت دینے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لا رہی ہے۔ ہمارے یہاں میوزک پر اچھا کام ہو رہا ہے۔ گزشتہ دنوں فیض فیسٹیول کے موقع پر آرٹسٹ بچوں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا تھا جس میں بلوچستان سے آئے ہوئے بچے بھی شامل تھے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی لوک میوزک میں ایک کمی جو میں محسوس کر رہی ہوں اس میں خواتین کی نمائندگی نہیں آپ کوشش کریں خواتین کو اس فیلڈ میں آگے لائیں۔ انہوں نے کہا کہ لوک ورثہ نے پاکستان کے تمام علاقوں سے کلچر پر کام کرنے والی تنظیموں کی ایک نیٹ ورکنگ کا کام اوتاک کے نام سے شروع کر رکھا ہے۔ جس کے ذریعے کلچر پر کام کرنے والی اداروں سے روابط کا ذریعہ قائم کیا جا چکا ہے۔ بلوچستان کی سطح پر جو تنظیمیں کلچر پر کام کر رہی ہیں انھیں اس پلیٹ فارم پر رجسٹرڈ کروا کر روابط بڑھائے جا سکتے ہیں اس سے تنظیموں اور پاکستان میں جتنے بھی کلچر ہیں کو ایک دوسرے کے قریب آنے میں مدد ملے گی۔۔ انہوں نے کہا کہ لوک ورثہ کے زیر اہتمام منڈوا فلم کلب کے ذریعے ہر ہفتے کلچرل فلمیں دکھائی جاتی ہیں بلوچستان کی کلچرل تنظیمیں کوئٹہ کی سطح پر اس طرح کا پروگرام آرگنائز کریں تو ہمارا ادارہ ان کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار ہے۔ سیاد این جی او کے سربراہ رازق فہیم نے ادارے کا خاکہ کھینچتے ہوئے کہا کہ ہمارا ادارہ اس وقت پاکستان کی دس اضلاع میں کام کر رہی ہے۔ ہم نہ صرف سوشل سیکٹر میں کام کر رہے ہیں بلکہ کلچر پر بھی ہم نے کافی فوکس کیا ہے۔ سروز کے فیلڈ میں ہم نے 20نوجوانوں کو تربیت دے کر تیار کیا ہے، اس کے علاوہ سروز، گٹار، دنبورہ اور رباب سکھانے کا کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان سے اس وفد کو اسلام آباد ایکسپوژر کرانے کا بڑا مقصد بلوچستان کا جو کلچر گزشتہ چند سالوں سے متاثر ہوا ہے اسے لٹریچر اور کلچر کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد دینا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر اگلے ماہ ہونے والی یوتھ لٹریری فیسٹیول میں ایگزیکٹیوز ڈائریکٹر کو شرکت کرنے کی دعوت دی۔بلوچستان سے آئی ہوئی ٹیم نے لوک ورثہ کے مختلف سیکشن دیکھے اور میوزیم کا دورہ کیا۔ انھوں نے لوک ورثہ کے کام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر فوزیہ سعید کے آنے کے بعد لوک ورثہ میں جان آگئی ہے ان کی کوششوں سے تمام صوبوں کی ثقافت کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملے گا۔ ان کا کہنا تھا وہ یہاں سے اچھی یادیں لے کر جا رہے ہیں۔ اور نئے آئیڈیاز جو اس وزٹ کے دوران ملی ہیں ان پر کام کریں گے۔